پشاور۔ 05 جنوری (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ کشمیری عوام کی حقِ خود ارادیت کی جدوجہد سات دہائیوں گزرنے کے باوجود آج بھی پوری قوت سے جاری ہے جبکہ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں بدستور مؤثر اور قابلِ عمل ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز کشمیر یوں کے یوم خودارادیت کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا۔گورنر نے کہا کہ بھارت کی …
کشمیری عوام کی حقِ خود ارادیت کی جدوجہد سات دہائیوں سے جاری ،اقوامِ متحدہ کی قراردادیں بدستور مؤثر اور قابلِ عمل ہیں،گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی

مزید خبریں
پشاور۔ 05 جنوری (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ کشمیری عوام کی حقِ خود ارادیت کی جدوجہد سات دہائیوں گزرنے کے باوجود آج بھی پوری قوت سے جاری ہے جبکہ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں بدستور مؤثر اور قابلِ عمل ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز کشمیر یوں کے یوم خودارادیت کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا۔گورنر نے کہا کہ بھارت کی جانب سے کشمیری عوام کو حقِ رائے دہی سے محروم رکھنا بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے ،مقبوضہ کشمیر میں سیاسی آزادیوں پر سخت پابندیاں عائد اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جبری قوانین اور طویل قید و بند کے باعث کشمیری عوام خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ عام شہری تشدد اور بے گھری کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔فیصل کریم کنڈی نے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کو خطے کے امن کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی یک طرفہ معطلی عالمی ذمہ داریوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر سے نکلنے والے دریاؤں پر کنٹرول خطے کے استحکام کے لیے سنگین چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ مذاکرات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہی حل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا انحصار مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور دیرپا حل پر ہے۔انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ محض تشویش کے اظہار تک محدود نہ رہے بلکہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے عملی اور مؤثر کردار ادا کرے۔








