"صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ کشمیری عوام نے خدمت، ترقی اور کارکردگی کی سیاست کو ووٹ دے کر اپنی ترجیحات کا واضح اظہار کیا ہے۔”
کشمیر ی عوام نے خدمت، ترقی اور کارکردگی کی سیاست کو ووٹ دیا ہے، عظمی بخاری

مزید خبریں
لاہور۔3اگست (اے پی پی):وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمی بخاری نے کہا ہے کہ کشمیر کے عوام نے خدمت، ترقی اور کارکردگی کی سیاست کو ووٹ دیا ہے، ہر کشمیری ووٹر پنجاب جیسی ترقی کا خواہاں ہے،خواتین نے بھی پولنگ کے عمل میں بھرپور حصہ لیا،آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کو ایک لاکھ سے زائد جبکہ پیپلز پارٹی کو صرف دو ہزار سے زائد ووٹ ملے،قمر زمان کائرہ کے حلقے میں پیپلز پارٹی کو صرف457 ووٹ پڑے اور کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے،آزاد کشمیر کے عوام نے وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی کارکردگی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور انتخابی نتائج اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ عوام خدمت اور ترقی کی سیاست کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈی جی پی آر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے مختلف حلقوں میں ووٹ ڈالنے والے عوام نے واضح طور پر پنجاب طرز کی ترقی،عوامی فلاح اور بہتر طرزِ حکمرانی کے حق میں فیصلہ دیا۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی متعدد ویڈیوز میں ووٹرز نے خود اس بات کا اظہار کیا کہ وہ آزاد کشمیر میں بھی پنجاب جیسی ترقی دیکھنا چاہتے ہیں،اسی لیے انہوں نے مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیا۔انہوں نے کہا کہ خواتین نے بھی پولنگ کے عمل میں غیرمعمولی جوش و جذبے کے ساتھ حصہ لیا اور دور دراز علاقوں سے سفر کرکے ووٹ کاسٹ کیا۔عظمی بخاری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے پاس اپنے 18 سالہ دورِ حکومت میں عوام کو بتانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر اتنے طویل عرصے کی حکمرانی کے باوجود عوام کو اپنی کارکردگی سے قائل نہ کیا جا سکے تو یہ خود ان کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام بھی پنجاب کی ترقی سے متاثر ہیں،جبکہ پیپلز پارٹی کو اپنی کارکردگی انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں اشتہارات کے ذریعے یاد دلانا پڑی۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے ہارے ہوئے اور مستردشدہ ٹولہ انتشار اور فتنہ کی سیاست چاہتے ہیں،چند عناصر ہر وقت ملک میں انتشار، لڑائی جھگڑا اور سیاسی عدم استحکام دیکھنا چاہتے ہیں اور زمینی حقائق قیادت تک پہنچنے دیتے۔وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ اب تک الیکشن کمیشن میں صرف شکایات جمع کرائی گئی ہیں، مگر کسی حلقے میں ری کائونٹنگ یا ری پولنگ کی باضابطہ درخواست یا قابلِ اعتبار ثبوت پیش نہیں کئے گئے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب کی واضح ہدایت تھی کہ مسلم لیگ (ن) کا کوئی ایم این اے یا ایم پی اے پولنگ اسٹیشن کے اندر نہیں جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کے تمام منتخب نمائندے صرف پولنگ کیمپوں تک محدود رہے اور ووٹرز کی رہنمائی اور انتظامات میں مصروف رہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) پورے اعتماد کے ساتھ کہتی ہے کہ وہ آزاد کشمیر کو پنجاب جیسا ترقی یافتہ بنانا چاہتی ہے تاکہ وہاں بھی عوام کو جدید ٹرانسپورٹ،صاف پانی، بہتر انفراسٹرکچر، ترقیاتی منصوبے اور عوامی سہولیات میسر آ سکیں۔انہوں نے کہا کہ اپنی شرمندگی اور خفت کو چھپانے کے لیے بلاول بھٹو کو زمینی حقائق اور اصل حالات سے بے خبر رکھا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مقامی قیادت اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے بلاول بھٹو کو غلط معلومات فراہم کرتی ہے،جس کے باعث وہ حقائق سے ہٹ کر بیانات دیتے ہیں اور بعد میں انہیں ان کی وضاحتیں پیش کرنا پڑتی ہیں۔سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے کہا کہ تلخی کبھی ایک طرف سے نہیں بڑھتی۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک صوبوں سے متعلق معاملات کا تعلق ہے،اس حوالے سے انہیں ابھی تک پارٹی قیادت کی جانب سے کوئی باضابطہ موقف موصول نہیں ہوا،اس لیے وہ اس پر ذاتی رائے نہیں دیں گی۔اگر اس معاملے پر سنجیدہ انداز میں بات ہوگی تو پارٹی قیادت ہی اس بارے میں فیصلہ کرے گی۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں وزیراعلی مریم نواز ایک مضبوط اور مستحکم اکثریت کے ساتھ حکومت چلا رہی ہیں اور پنجاب کی سیاسی صورتحال مکمل طور پر مستحکم ہے۔








