فیصل آباد۔ 17 نومبر (اے پی پی):کماد اب پاکستان کی زراعت میں اہم کمرشل فصل کے طور پر کاشت ہونے لگی ہے کیونکہ یہ ہماری زرعی معیشت کے استحکام کے علاوہ چینی کی صنعت کیلئے خام مال کی فراہمی کا بہترین ذریعہ ہے نیزگنے سے گڑ، شکر اور چینی کے حصول کے علاوہ میتھانول، ایتھانول اور سرکہ بھی تیار کیاجاتاہے،علاوہ ازیں گنے کے پھوگ سے کپڑا، کاغذ، چپ بورڈ اور …
کمادپاکستان کی اہم کمرشل فصل ،چینی کی صنعت کیلئے خام مال کی فراہمی کا بہترین ذریعہ ہے،محمد ظفر

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 17 نومبر (اے پی پی):کماد اب پاکستان کی زراعت میں اہم کمرشل فصل کے طور پر کاشت ہونے لگی ہے کیونکہ یہ ہماری زرعی معیشت کے استحکام کے علاوہ چینی کی صنعت کیلئے خام مال کی فراہمی کا بہترین ذریعہ ہے نیزگنے سے گڑ، شکر اور چینی کے حصول کے علاوہ میتھانول، ایتھانول اور سرکہ بھی تیار کیاجاتاہے،علاوہ ازیں گنے کے پھوگ سے کپڑا، کاغذ، چپ بورڈ اور دیگر قیمتی اشیا تیار کی جاتی ہیں یہی نہیں بلکہ گنے کے بگاس سے بجلی بھی تیار کی جارہی ہے اور ترقی یافتہ ممالک میں ایتھانول کو پٹرول و ڈیزل میں مکس کرکے بائیو فیول اور میتھانول سے شراب بھی تیارکی جاتی ہے۔
ماہر کماد محمد ظفرنے بتایا کہ حکومت کی جانب سے15نومبر سے گنے کا کرشنگ سیزن شروع کروانے کے بروقت فیصلہ سے کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ ہو گا۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان گنے کے زیر کاشت رقبہ اورچینی کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے اور پنجاب میں گنے کی اوسط پیداوار 750 من فی ایکڑہے جو دنیا کی اوسط پیداوار سے زائد ہے۔انہوں نے بتایاکہ پاکستان میں کماد کے ترقی پسند کاشتکار 2ہزار سے22 سو من فی ایکڑ تک پیداوار حاصل کررہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ شعبہ کماد کے زرعی سائنسدانوں نے ابتک کماد کی 30 سے زائداقسام متعارف کروائی ہیں اور اس ادارہ کی متعارف کردہ نئی اقسام سی پی ایف 248، سی پی ایف 250، سی پی ایف 252، سی پی ایف 253، سی پی -77 -400، سی پی ایف249، سی پی ایف 252، ایس پی ایف 234 اور ایس ایچ ایف 242وغیرہ پاکستان کے 85 فیصد رقبہ پر کاشت ہورہی ہیں جبکہ ان نئی اقسام کی کاشت کے فروغ سے گذشتہ سال پاکستان میں چینی کی ریکارڈ پیداوار حاصل ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ کاشتکار کماد کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیلئے 4 فٹ کے فاصلے پر2 لائنیں کاشت کریں کیونکہ اس جدید طریقہ کاشت سے 35 سے 45 فیصد تک پانی کی بچت ممکن ہے اورکماد کی فصل میں جڑی بوٹیوں کی تلفی، ضرر رساں کیڑوں کے بروقت انسداد اور کھادوں کے متوازن اور متناسب استعمال میں آسانی رہتی ہے۔
مزید برآں کماد کی فصل میں کھلی فضاکی دستیابی سے پودوں کی بڑھوتری میں اضافہ سے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہو جاتا ہے لہٰذا کماد کے کاشتکار اس جدید ٹیکنالوجی کو اپنا کر زرعی آمدن میں اضافہ کو یقینی بنائیں کیونکہ کماد کی پیداوار میں اضافہ سے پاکستان میں چینی کی پیداواربڑھ جائے گی جس سے شوگر انڈسٹری کو فائدہ کے علاوہ ملکی معیشت کو بھی استحکام حاصل ہوگا۔








