پاکستان کو سیلابی خطرات سے بچانے کیلئے قومی آبی پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔تحقیقی رپورٹ

"پاکستان کو بڑھتے ہوئے سیلابی خطرات اور آبی بحران سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے وقتی ہنگامی اقدامات کے بجائے جامع قومی واٹر سکیورٹی پالیسی اپنانا ہوگی۔”

اسلام آباد۔26جولائی (اے پی پی):پاکستان کو بڑھتے ہوئے سیلابی خطرات اور آبی بحران سے نمٹنے کے لیے وقتی ہنگامی اقدامات کے بجائے جامع قومی آبی تحفظ (واٹر سکیورٹی) پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بات ایمپیک اسٹریٹجیز کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار کے دوران جاری کی گئی تحقیقی رپورٹ ’’پانی، موسمیاتی تبدیلی، سفارت کاری اور دریائے سندھ کے آبی نظام کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی حکمت عملی‘‘ میں سامنے آئی۔رپورٹ کے مطابق دریائے چناب میں حالیہ سیلابی صورتحال اور مون سون کے دوران پانی کے بڑھتے ہوئے بہاؤ نے پاکستان کے آبی نظام کی کمزوریوں کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شدید بارشیں بالائی علاقوں سے پانی کا اخراج محدود آبی ذخائر ، نہری نظام کےنقائص ، زیرِ زمین پانی کے غیر مؤثر انتظام اور سیلاب سے نمٹنے کی ناکافی تیاری ملک کے لیے سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔تحقیقی رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی گلیشیئرز کے پگھلنے آبادی میں اضافے زیرِ زمین پانی کی بے دریغ نکاسی اور دریائے سندھ کے طاس پر بڑھتے ہوئے دباؤ نے پاکستان کو شدید آبی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ ملک کو اندرونی آبی نظم و نسق بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ علاقائی سطح پر آبی سفارت کاری کو بھی مضبوط بنانا ہوگا۔رپورٹ میں پانچ اہم سفارشات پیش کی گئی ہیں جن میں 1991 کے آبی تقسیم معاہدے پر مؤثر عملدرآمد، نئے آبی ذخائر اور سیلاب سے بچاؤ کے منصوبوں کی تکمیل، چین اور افغانستان کے ساتھ آبی تعاون، جدید آبپاشی، ڈیجیٹل واٹر اکاؤنٹنگ، زیرِ زمین پانی کے مؤثر ضابطے اور بین الاقوامی موسمیاتی فنڈنگ کے حصول کو قومی ترجیحات میں شامل کرنا شامل ہے۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئےوفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر شیخ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے اس معاہدے کے حوالے سے کسی بھی یکطرفہ اقدام کی بین الاقوامی قوانین میں گنجائش نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کے معاملے پر کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن اور معیشت کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ایمپیک اسٹریٹجیز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد یونس نے کہا کہ دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں حالیہ اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آبی تحفظ کو صرف موسمی سیلاب کا مسئلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔پاکستان کو مؤثر آبی نظم و نسق موسمیاتی مزاحمت آبی ذخائر میں اضافے اور فعال علاقائی آبی سفارت کاری پر مبنی طویل المدتی حکمت عملی اپنانا ہوگی کیونکہ آبی تحفظ ہی معاشی غذائی اور قومی سلامتی کی بنیاد ہے