کمپنیوں کی حقیقی ملکیت کا شفاف ریکارڈ ،ایس ای سی پی نے ڈیجیٹل یو بی او رجسٹری متعارف کرا دی

سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے رجسٹر ہونے والی کمپنیوں کی حقیقی ملکیت کا شفاف ریکارڈ رکھنے کے لیے ڈیجیٹل الٹی میٹ بینیفیشل اونرشپ (UBO) رجسٹری متعارف کرا دی ہے۔ ڈیجیٹل یو بی او رجسٹری کمپنیوں کی ریگولیٹری نگرانی کو مؤثر بنانے اور غیر قانونی مقصد کے لیے کمپنیوں کے استعمال کی روک تھام میں معاون ہو گی۔

اسلام آباد۔9مارچ (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے رجسٹر ہونے والی کمپنیوں کی حقیقی ملکیت کا شفاف ریکارڈ رکھنے کے لیے ڈیجیٹل الٹی میٹ بینیفیشل اونرشپ (UBO) رجسٹری متعارف کرا دی ہے۔ ڈیجیٹل یو بی او رجسٹری کمپنیوں کی ریگولیٹری نگرانی کو مؤثر بنانے اور غیر قانونی مقصد کے لیے کمپنیوں کے استعمال کی روک تھام میں معاون ہو گی۔ کمپنیز ایکٹ کے سیکشن 123 کے تحت ایس ای سی پی میں رجسٹر تمام کمپنیوں کے لیے لازمی ہے کہ وہ کمپنی کے الٹی میٹ بینیفیشل اونرز (UBOs) یعنی وہ حقیقی فرد یا افراد جو اس کمپنی کے اصل مالک یا اس پر حتمی کنٹرول رکھتے ہیں، کی معلومات ایس ای سی پی کو فراہم کریں۔

نئی رجسٹر ہونے والی کمپنیاں یہ معلومات فارم 1 کے ذریعے جبکہ پہلے سے رجسٹر کمپنیاں یہ معلومات فارم 19 کے ذریعے جمع کرواتی ہیں۔ کمپنیوں کی جانب سے ان حقیقی ملکیت کی معلومات یعنی یو بی او فارم جمع کروانے کو آن لائن کر دیا گیا ہے، جبکہ کہ ریکارڈ کا ڈیجیٹل رجسٹری میں موجود ہوتا ہے۔کمپنیوں کی ملکیت کا شفاف ریکارڈ پاکستان کے کارپوریٹ گورننس فریم ورک کو مزید مستحکم اور شفاف بنانے اور ریگولیٹرز کے لیے ان افراد کی نشاندہی ممکن ہو سکے گی جو درحقیقت کارپوریٹ اداروں کو کنٹرول کرتے ہیں۔

کمیشن کے مطابق اس نظام کے نفاذ سے کمپنیوں کو غیر قانونی سرگرمیوں، منی لانڈرنگ یا دیگر غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے روکنے میں بھی مدد ملے گی اور ریگولیٹری نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔ایس ای سی پی کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل یو بی او رجسٹری کارپوریٹ احتساب کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے اینٹی منی لانڈرنگ اور کاؤنٹر ٹیررازم فنانسنگ فریم ورک کو مضبوط کرے گی۔

اس سے ملک میں شفاف اور قابل اعتماد کاروباری ماحول کے قیام میں بھی مدد ملے گی۔ایس ای سی پی ریگولیٹری اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے شفافیت کے فروغ دینے، ریگولیٹری کمپلائنس کو سہل بنانے اور پاکستان کے کارپوریٹ سیکٹر پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مستحکم بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔