کم جونگ اُن نے رابطوں کا جواب دیا ہے،صدر ٹرمپ

کم جونگ اُن نے رابطوں کا جواب دیا ہے،صدر ٹرمپ

واشنگٹن ۔18اگست (اے پی پی):امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے ان کی جانب سے کیے گئے رابطوں کا جواب دیا ہے،یہ بیان ان کے اس حکم کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے پینٹاگون کو جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقیں محدود کرنے کا کہا تھا۔ اردو نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ کے کم جونگ اُن کے ساتھ تعلقات کو اس بار وائٹ ہاؤس کی جانب سے پچھلی مدت صدارت کے مقابلے میں کم اہمیت دی گئی ہے۔پہلی مدت کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقاتیں ہوئی تھیں جبکہ ایک دوسرے کو خطوط بھی بھیجے گئے تھے، ٹرمپ اس بار بھی بارہا یہ دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں کہ وہ شمالی کوریا کے رہنما کے ساتھ براہ راست سفارت کاری شروع کرنا چاہتے ہیں۔اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران جب امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ کم جونگ نے ان کے دوبارہ رابطوں کا جواب کیوں نہیں دیا۔اس پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے جواب دیا ہے مگر اس بارے تفصیل نہیں بتائی۔وائٹ ہاؤس کے حکام اور نیویارک میں اقوام متحدہ کے شمالی کوریا کے مشن نے اس بارے تبصرے کے لیے بھجوائی گئی درخواستوں کا جواب دیا۔ادھر، صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز پینٹاگون کو ہدایت کی کہ جنوبی کوریا کے ساتھ طے شدہ مشترکہ فوجی مشقوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ جنوبی کوریا نے ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی کوشش میں امریکا کا ساتھ دینے سے انکار کیا ہے جبکہ ایک وجہ ان مشقوں پر اٹھنے والے اخراجات کو بھی قرار دیا ۔دوسری جانب شمالی کوریا مشترکہ مشقوں کی مذمت کرتا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران کم جونگ اُن کے ساتھ ان کے تعلقات رہے۔ دونوں کے درمیان ملاقاتیں بھی ہوئیں تاہم پیانگ یانگ کو جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے پر مذاکرات ناکام ہونے کے بعد یہ سلسلہ رک گیا تھا۔شمالی کوریا کو اپنے جوہری ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ بیلسٹک میزائلوں کی وجہ سے بھی عالمی سطح پر سخت پابندیوں کا سامنا ہے۔ گزشتہ برس کم جونگ اُن کی بااثر بہن کم یو جونگ نے اعتراف کیا تھا کہ ان کےبھائی اور صدر ٹرمپ کے درمیان ذاتی تعلقات برے نہیں،تاہم ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر واشنگٹن ان تعلقات کو پیانگ یانگ کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے تو یہ کوشش محض مذاق بن کر رہ جائے گی۔2019 میں صدر ٹرمپ اور کم جونگ اُن کے درمیان ہونے والی آخری ملاقات کے بعد سے شمالی کوریا نے روس کے ساتھ اپنے تعلقات خاصے مضبوط کیے جبکہ چین کے ساتھ قریبی تعلقات کا سلسلہ بھی برقرار ہے۔شمالی کوریا کے فوجی یوکرین جنگ کے دوران روسی فوج کے ساتھ مل کر لڑ چکے ہیں۔پچھلے ہفتے یوکرین کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ زاپوریزیا میں ایک سٹیل پلانٹ پر روسی بیلسٹک میزائل حملے میں شمالی کوریا کے تیار کردہ میزائل بھی استعمال کیے گئے تھے۔