کوآپریٹو سوسائٹی انتخابات کے تنازع پر آئینی درخواست ناقابلِ سماعت قرار،وفاقی آئینی عدالت نے معاملہ کوآپریٹو کورٹ کو بھجوا دیا

وفاقی آئینی عدالت نے سندھ سیکریٹریٹ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی لمیٹڈ کے 14 دسمبر 2025 کو ہونے والے انتخابات سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کا 17 مارچ 2026 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور قرار دیا ہے

اسلام آباد۔22جون (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے سندھ سیکریٹریٹ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی لمیٹڈ کے 14 دسمبر 2025 کو ہونے والے انتخابات سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کا 17 مارچ 2026 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور قرار دیا ہے کہ کوآپریٹو سوسائٹی کے انتخابات کو چیلنج کرنے کا مناسب فورم کوآپریٹو کورٹ ہے، نہ کہ آئینی درخواست۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس محمد کریم خان آغا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سندھ سیکریٹریٹ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی لمیٹڈ کی اپیل منظور کرتے ہوئے ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو ختم کر دیا جس کے تحت 14 دسمبر 2025 کے انتخابات اور ان سے متعلق تمام نوٹیفکیشنز کالعدم قرار دے کر نئے انتخابات کرانے کا حکم دیا گیا تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ سندھ کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ 2020 کے سیکشن 73، 116 اور 117 کے تحت کوآپریٹو سوسائٹی کے امور، انتظام، کاروبار اور انتخابات سے متعلق تنازعات کے فیصلے کے لیے خصوصی قانونی فورم یعنی کوآپریٹو کورٹ موجود ہے۔ ایسے معاملات میں آئینی درخواست دائر کرنے سے قبل متعلقہ قانونی فورم سے رجوع کرنا ضروری ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ انتخابات کے خلاف اعتراضات، جن میں ووٹر لسٹ کی تیاری، اصل ریکارڈ کی دستیابی، انتخابی عمل کی شفافیت اور انتخابی طریقہ کار کی قانونی حیثیت شامل ہیں، متنازعہ حقائق پر مبنی معاملات ہیں جن کا تعین شواہد اور ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔ ایسے تنازعات آئینی دائرۂ اختیار میں بطور ابتدائی فورم طے نہیں کیے جا سکتے۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ انتخابات کے خلاف ایک آئینی درخواست کے ساتھ ساتھ کوآپریٹو کورٹ میں بھی تقریباً یکساں نوعیت کی کارروائی زیر التوا تھی، جس سے متوازی قانونی کارروائیوں کا پہلو سامنے آتا ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ ہائیکورٹ نے ایک مکمل ہو چکے انتخابی عمل کو اس وقت کالعدم قرار دیا جب کہ اس معاملے کے لیے خصوصی قانونی فورم موجود تھا اور تنازع میں متعدد متنازعہ حقائق شامل تھے۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ معاملہ ان غیر معمولی حالات میں شامل نہیں تھا جہاں متبادل قانونی چارہ جوئی موجود ہونے کے باوجود آئینی دائرۂ اختیار استعمال کیا جا سکے۔وفاقی آئینی عدالت نے اپیل منظور کرتے ہوئے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا اور کوآپریٹو کورٹ کو ہدایت کی کہ سوسائٹی کے انتخابات کی قانونی حیثیت اور شفافیت سے متعلق تنازع کو ترجیحی بنیادوں پر، ترجیحاً 30 ورکنگ دنوں کے اندر، نمٹایا جائے۔ عدالت نے مزید ہدایت کی کہ آئندہ انتخابات سے متعلق کوئی بھی کارروائی قانون کے مطابق انجام دی جائے۔