کوئی فریق یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ کو معطل نہیں کر سکتا ،معاہدہ پر عملدرآمد دونوں ریاستوں پر لازم ہے ، عابد ساقی ایڈووکیٹ

اسلام آباد۔5فروری (اے پی پی):بین الاقوامی قوانین کے ماہر سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان عابد ساقی نے ’’اے پی پی‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کے تحت کوئی بھی ریاست یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ کو معطل نہیں کر سکتی اور نہ ہی زیر التوا رکھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے پر عملدرآمد فریقین …

اسلام آباد۔5فروری (اے پی پی):بین الاقوامی قوانین کے ماہر سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان عابد ساقی نے ’’اے پی پی‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کے تحت کوئی بھی ریاست یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ کو معطل نہیں کر سکتی اور نہ ہی زیر التوا رکھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے پر عملدرآمد فریقین پر لازم ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت بین الاقوامی قانون کے کسی بھی قاعدے یا اصول کے تحت یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل،زیر التوا نہیں رکھ سکتا اور نہ ہی اس کو ختم کر سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ویانا کنونشن کے آرٹیکل 54 کے تحت کوئی بھی دوطرفہ معاہدہ صرف اس کی اپنی دفعات کے مطابق یا فریقین کی باہمی رضامندی سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔عابد ساقی ایڈووکیٹ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ میں اس کو ختم کرنے کی کوئی شق موجود نہیں ہے۔لہذا بھارت پاکستان کی رضامندی کے بغیر سندھ طاس معاہدہ سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کی کوئی بھی یکطرفہ بھارتی کارروائی سفارت اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوگی۔واضح رہے کہ گزشتہ سال جون 2025 میں ہیگ کی عالمی ثالثی عدالت نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا تھا کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ کو معطل یا التوا میں نہیں رکھ سکتا۔ عدالت نے تصدیق کی کہ معاہدہ نافذ العمل ہے اور اس کے لازمی تنازعات کے حل کے طریقہ کار میں رکاوٹ نہیں ڈالی جا سکتی۔

دوسری جانب ورلڈ بینک نے بھی بطور ضامن معاہدہ پر دستخط کر رکھے ہیں اور موقف برقرار رکھا ہے کہ باہمی اتفاق کے بغیر معاہدے میں تبدیلی یا اسے معطل نہیں کیا جا سکتا۔سندھ طاس معاہدہ پاکستان کی قومی سلامتی، معاشی بقا اور زراعت کے لیے شہ رگ کی حیثیت کا حامل ہے۔پاکستان میں بہنے والے مغربی دریا سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کے زرعی شعبہ کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کے حامل ہیں ۔ عابد ساقی ایڈووکیٹ نے کہا کہ سندھ طاس معاہد ہ کو معطل یا تبدیل کرنے کی کوئی بھی یکطرفہ بھارتی کوشش نہ صرف پاکستان کے زرعی شعبہ کیلئے نقصان دہ ثابت ہو گی بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی سنگین خلاف ورزی ہو گی۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم کا سب سے قابلِ عمل فریم ورک ہے بشرطیکہ بھارت اپنے وعدوں کا احترام کرے۔ بین الاقوامی برادری اور عالمی بینک کو چاہیے کہ اس حوالہ سے بھارت کو کسی بھی قسم کے غیر قانونی اقدامات سے باز رکھنے کیلئے اپنا اثرورسوخ استعمال کریں۔ عالمی برادری، اقوام متحدہ اور عالمی بینک بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو یقینی بنانے اور خطے کے پائیدار امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں۔

واضح رہے برصغیر کی تقسیم کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کے مسئلہ کے حل کیلئے 1948 میں دونوں ممالک کے درمیان ایک عارضی معاہدہ ہواتاہم پانی کی تقسیم کے جامع اور مستقل انتظام کی ضرورت کے تحت 1960 میں سندھ طاس معاہدہ تشکیل پایا۔ سندھ طاس معاہدہ پر 19 ستمبر 1960 کو ورلڈ بینک کی سرپرستی میں دستخط کئے گئے، عالمی بینک معاہدہ کے ضامن کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔

سندھ طاس معاہدہ سندھ بیسن سسٹم کے چھ دریاؤں کی تقسیم کو کنٹرول کرتا ہے جس کے تحت مشرقی دریا یعنی راوی، بیاس اور ستلج بھارت کو دئیے گئے جبکہ پاکستان کو مغربی دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب کے پانیوں پر حقوق دئیے گئے۔معاہدہ کے تحت مستقل انڈس کمیشن بھی قائم کیا گیا جس میں دونوں ممالک کے نمائندے شامل ہیں۔

سندھ طاس معاہدہ میں آبی تنازعات کے حل کا تفصیلی طریقہ کار موجود ہے ،اس کے علاوہ غیر جانبدار ماہرین اور بین الاقوامی ثالثی بھی شامل ہے۔ بین الاقوامی قانون کے ماہر ین نے کہا ہے کہ کوئی بھی فریق یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ کو معطل نہیں کر سکتا اور اس پر عملدرآمد دونوں ریاستوں پر لازم ہے۔