اسلام آباد ۔ 16 مارچ (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ کورنا وائرس کی روک تھام کے لئے ہاتھ ملانے سے گریز کرنا اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے، ایک دوسرے کو خوش آمدید کہنے کے اور بھی انداز ہیں لوگ ایک دوسرے کے ماتھے یا سینہ کی طرف ہاتھ رکھ کر بھی اپنی خوشی کا اظہار کر سکتے ہیں۔ …
کورنا وائرس کی روک تھام کے لئے ہاتھ ملانے سے گریز کرنا اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 16 مارچ (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ کورنا وائرس کی روک تھام کے لئے ہاتھ ملانے سے گریز کرنا اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے، ایک دوسرے کو خوش آمدید کہنے کے اور بھی انداز ہیں لوگ ایک دوسرے کے ماتھے یا سینہ کی طرف ہاتھ رکھ کر بھی اپنی خوشی کا اظہار کر سکتے ہیں۔ پیر کو نجی ٹی وی چینل کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ چینی حکومت نے وائرس پر قابو پانے کے لئے فعال کردار ادا کیا ،یہ وائرس ایران سے پاکستان آیا۔ انہو ں نے کہا کہ دیگر ممالک کی طرح ہمیں بھی کرونا پر کنٹرول کے لئے متاثرہ افراد کو دوسروں سے الگ تھلگ رکھنے کے سخت اقدامات کرنے چاہئیں۔ ایک سوال پر صدر مملکت نے کہا کہ چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے قومی یکجہتی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کا یہ منفرد کردار ہے کہ وہ بے یار و مددگار، ضرورت مندوں اور پناہ گزینوں کی مدد کا بڑا جذبہ رکھتی ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے دہشتگردی کے چیلنج پر بھی کامیابی سے قابو پایا جو دیگر ممالک نہ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے وراثتی حقوق، کم غذائیت اور دیگر عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں میڈیا کا اہم کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا عوامی مسائل کو بلند اور قومی مفاد کو مقدم رکھے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نے خواتین کو تحفظ اور حقوق فراہم کئے۔ صدرمملکت نے کہا کہ آزادی اظہار میں توازن اور اعتدال برقرار رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں دنیا میں جہاں بھی گیا لوگوں کی پاکستان کے بارے میں بہت اچھی سوچ تھی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مجھے کتاب سے لگاﺅ اپنی والدہ سے ملا ۔وہمجھے اچھی کتب پڑھنے کو دیتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اسلامی کتب اور سیاست سمیت دیگر موضوعات پر بے شمار کتب پڑھیں، کتاب سے ہی مجھے دین اور نماز کے بارے میں آگاہی ہوئی۔ صدرمملکت نے کہا کہ چوتھا صنعتی انقلاب مصنوعی ذہانت کا نتیجہ تھا اور پاکستان کو بھی اس دوڑمیں شامل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ چار ممالک نے پاکستان سے ماہر آئی ٹی گریجوایٹس مانگے مگر ہم یہ طلب پوری نہ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ سالانہ 30 ہزار گریجوایٹس میں سے صرف 6 ہزار کو روزگار ملتا ہے جبکہ باقی بیروزگار رہتے ہیں تاہم مصنوعی ذہانت کے میرے اقدام کے تحت سلیکان ویلی کے ماہرین پاکستان میں اساتذہ کی تربیت کریں گے جس سے معیاری گریجوایٹس کی تیاری میں مدد ملے گی۔ صدر نے توقع کی کہ جاری کوششوں اور صلاحیتوں سے پاکستان سافٹ ویئر کے برآمدی شعبے میں اپنا مقام حاصل کرے گا۔








