جنیوا ۔ 23 مئی (اے پی پی) عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس نے کہا ہے کہ کورونا وبا کے پھیلا سے بنیادی طبی سروسز کے ایک حصے کے طور پر بچوں کو معمول کے حفاظتی ٹیکے لگانے کے کام پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اس سے ایک سال سے کم عمر کے آٹھ کروڑبچوں کو خناق، خسرہ اور نمونیہ سمیت دیگر امراض کا خدشہ درپیش …
کورونا وائرس نے دنیا بھر میں بچوںکو حفاظتی ٹیکے لگانے کی مہم کو متاثر کیا ہے ،عالمی ادارہ صحت

مزید خبریں
جنیوا ۔ 23 مئی (اے پی پی) عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس نے کہا ہے کہ کورونا وبا کے پھیلا سے بنیادی طبی سروسز کے ایک حصے کے طور پر بچوں کو معمول کے حفاظتی ٹیکے لگانے کے کام پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اس سے ایک سال سے کم عمر کے آٹھ کروڑبچوں کو خناق، خسرہ اور نمونیہ سمیت دیگر امراض کا خدشہ درپیش ہے۔میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوںنے کہا عالمی ادارہ صحت نے موجودہ وبا کے تناظر میں حفاظتی ٹیکے لگانے کی نئی گائیڈ لائن جاری کی ہیں، ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت تمام ممالک کے ساتھ مل کر بچوں کو بروقت حفاظتی ٹیکے لگانے کو یقینی بنائے گا۔رواں صدی کے ابتدا سے بچوں کی شرح اموات میں پچاس فی صد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کی ایک اہم وجہ بروقت حفاظتی ٹیکے لگانا ہے۔








