اسلام آباد ۔ 23 اپریل (اے پی پی) پاکستان علماء کونسل، دارالافتاء پاکستان و دیگر مذہبی وسیاسی جماعتوں کے قائدین نے کہا ہے کہ آج جمعة المبارک کو ملک بھرمیں یوم توبہ و رحمت کے طور پر منایا جائے گا، آئمہ، خطبائ، علماء و مشائخ کورونا وباء کے خاتمے، اس میں مبتلا مریضوں کی جلد صحت یابی اور کرونا کا شکار ہوکر جاں بحق ہونے والوں کے بخشش و مغفرت …
کورونا وائرس کی وبا کا تیزی سے پھیلنا قابل تشوش ہے، وباء سے بچنے کا واحد راستہ سماجی فاصلہ اور لاک ڈاون کی پابندی ہے، عوام احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ توبہ واستغفار کریں پاکستان علماء کونسل، دارالافتاء پاکستان و دیگر مذہبی وسیاسی جماعتوں کے قائدین کا مشترکہ بیان جمعة المبارک کو یوم توبہ و رحمت کے طور پر منانے کی اپیل

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 23 اپریل (اے پی پی) پاکستان علماء کونسل، دارالافتاء پاکستان و دیگر مذہبی وسیاسی جماعتوں کے قائدین نے کہا ہے کہ آج جمعة المبارک کو ملک بھرمیں یوم توبہ و رحمت کے طور پر منایا جائے گا، آئمہ، خطبائ، علماء و مشائخ کورونا وباء کے خاتمے، اس میں مبتلا مریضوں کی جلد صحت یابی اور کرونا کا شکار ہوکر جاں بحق ہونے والوں کے بخشش و مغفرت کے لئے خصوصی دعائیں کرائیں۔ چیئرمین پاکستان علماء کونسل و صدر وفاق المساجد و المدارس پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، پیر نقیب الرحمان، علامہ ضیاء اللہ شاہ بخاری، مولانا محمدبخان لغاری، مولانا محمد حنیف بھٹی، علامہ غلام اکبر ساقی، مولانا عبدالکریم ندیم، علامہ عبدالحق مجاہد، مولانا اسد زکریا، مولانا محمد رفیق جامی، مولانا اسد اللہ فاروق، قاضی مطیع اللہ سعیدی، مولانا اسید الرحمٰن سعید، مولانا محمد اسلم صدیقی، مولانا زبیر عابد، مولانا ابو بکر صابری، مولانا نعمان حاشر، علامہ طاہر الحسن، قاری عصمت اللہ معاویہ، مولانا محمد اشفاق پتافی، مولانا محمد شفیع قاسمی، مولانا عثمان بیگ فاروقی و دیگر نے اپنے مشترکہ بیان میں کیا ہے کہ کورونا وائرس جس تیزی سے پاکستان میں پھیل رہا ہے، وہ قابل تشوش ہے۔ اس وباء سے بچنے کا واحد راستہ سماجی فاصلہ اور لاک ڈاون کی پابندی ہے۔ عوام احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ توبہ واستغفار کریں اور اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کریں۔ جب تک اللہ راضی نہیں ہوگا دنیا کی کوئی طاقت اس مہلک وباء سے نجات نہیں دلا سکتی۔ انہوں نے اپیل کی کہ بچے، بوڑھے، بیمار 20 نکاتی اعلامیہ کے مطابق گھروں میں نماز ادا کریں اور مساجد کے اندر سماجی فاصلہ کو برقرار رکھا جائے۔








