جنیوا ۔ 10 فروری (اے پی پی) عالمی ادارہ صحت نے خبر دار کیا ہے کہ چین سے باہر کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے اس لئے ہر ملک اس سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی بنائے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ( ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈرس ایڈھانم گیبریاسس نے اپنے ٹویٹ میں خبردار کیا ہے کہ ایسے …
کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلاو¿ کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت کا انتباہ

مزید خبریں
جنیوا ۔ 10 فروری (اے پی پی) عالمی ادارہ صحت نے خبر دار کیا ہے کہ چین سے باہر کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے اس لئے ہر ملک اس سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی بنائے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ( ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈرس ایڈھانم گیبریاسس نے اپنے ٹویٹ میں خبردار کیا ہے کہ ایسے افراد کے ذریعے بھی کورونا وائرس کی منتقلی ہو سکتی ہے جنہوں نے کبھی چین کا سفر نہیں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس نوعیت کے کچھ مریض سامنے آئے ہیں اور اس وائرس کے متاثرہ انسانوں سے دیگر افراد میں منتقلی میں تیزی آنے کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پوری توجہ وائرس کے خاتمے کی کوششوں پر مرکوز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام ممالک کو چاہئے کہ وہ وائرس کی اپنے ہاں ممکنہ آمد سے نمٹنے کی حکمت عملی ابھی سے بنالیں۔ یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا جب تجربہ کار ماہر صحت بروس آئلورڈ کی سربراہی میں بین الاقوامی ماہرین کا مشن چین پہنچ چکا ہے ۔ بروس آئلورڈ نے 2014ءسے 2016ءکے دوران مغربی افریقہ میں ایبولا کی وبا کی مانیٹرنگ کی تھی۔ واضح رہے کہ چین سے باہرتقریباً 30 مقامات پر کورونا وائرس سے انفیکشن کے 350 سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ فلپائن اور ہانک کانگ میں دو مریض جان کی بازی ہارے ۔ چین کے اندر 40 ہزار سے زائد افراد کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق جبکہ 910 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ متعدد ممالک نے چین سے آمد ورفت بند جبکہ بڑی فضائی کمپنیوں نے چین کے لئے اپنی پروازیں معطل کردی ہیں ۔ ایئر چائنا نے بھی امریکہ جانے والی اپنی کچھ پروازیں منسوخ کی ہیں۔








