اسلام آباد ۔ 30 ستمبر (اے پی پی) سربراہ ہندو کونسل ڈاکٹر رمیش کمارنے اسلام آبادہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ کوشش ہے کہ کیس پر جوڈیشری اور لائرز کی ایک آواز بنے، حکومت پہلے بھی ہمارے ساتھ تعاون کررہی ہے،اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی ہورہی ہے، جلد تمام سفارتکاروں کا ایک اجلاس بلا رہا ہوں،اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے اس معاملے کو اپنا فرض …
کوشش ہے کیس پر جوڈیشری اور لائرز کی ایک آواز بنے، حکومت پہلے ہی ہمارے ساتھ تعاون کررہی ہے،اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی ہورہی ہے، جلد تمام سفارتکاروں کا ایک اجلاس بلا رہا ہوں،سربراہ ہندو کونسل ڈاکٹر رمیش کمارکی اسلام آبادہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 30 ستمبر (اے پی پی) سربراہ ہندو کونسل ڈاکٹر رمیش کمارنے اسلام آبادہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ کوشش ہے کہ کیس پر جوڈیشری اور لائرز کی ایک آواز بنے، حکومت پہلے بھی ہمارے ساتھ تعاون کررہی ہے،اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی ہورہی ہے، جلد تمام سفارتکاروں کا ایک اجلاس بلا رہا ہوں،اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے اس معاملے کو اپنا فرض سمجھاجس کیلئے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں،تمام بار آج عدالت پیش ہوئی، ڈاکٹر رمیش کمارنے کہاکہ اتوار کے روز اپنی پریس کانفرنس میں وکلاءسے گیارہ پاکستانیوں کے قتل پر معاونت مانگی تھی،وکلاء برادری فارن آفس اور حکومت کو پریشر دے تاکہ اس مسئلہ میں کام تیزی سے ہو، جنیوا کے اندر بھی ہیومن رائٹس کے فورم پر جارہا ہوں، اسلام اباد ہائیکورٹ بار نے سب سے پہلے ہماری مدد کی، ہماری درخواست دائر کی، حکومت اور متعلقہ اداروں اس کیس کو نوٹس کیے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ ایک پاکستان کی سپریم کورٹ ہے جو اقلیتوں کے حق میں فیصلے دیتی ہے لیکن بھارت کی سپریم کورٹ مسجد کو ہٹا کر مندر بنانے کا فیصلہ دیتی ہے، انڈیا ایک سیکولر ملک تھا مہاتما گاندھی اور نہرو کا انڈیا مختلف تھا لیکن ریاست کے پالیساں الٹی ہیں ہمیں انکے خلاف آواز اٹھانی ہو گی،انہوں نے کہاکہ آج بتیس لوگوں کو رہا کر دیا جاتا ہے، پاکستان کی ہندو کمیونٹی انسانیت کے ناطے اسکی مخالف ہے کہ اللہ کا گھر ہٹا کر مندر بنایا جائے،رمیش کمارنے کہاکہ بھارت میں پاکستانی سفارت خانے کو رسائی نہیں دی جا رہی،اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے،ہندو ازم میں کیا سیکھتا ہے، مگر بھارت دوسری طرف جا رہا ہے،کشمیر کے اندر کیا ہو رہا ہے،خطے کو امن کو گہوارہ بنانے کے لیے اپنی نیت بدلیں،میں اس تھیوری کو نہیں مانتا کہ اللہ کا گھر مٹا کر بھگوان کا گھر بنایا جائے۔








