اسلام آباد۔17مارچ (اے پی پی):کووڈ۔19 کی عالمی وبا سے قبل سفرو سیاحت کا شعبہ بین الاقوامی معیشت کااہم جزو تھا، عالمی سطح پر ٹریول اینڈ ٹور ازم سیکٹر مجموعی بین الاقوامی پیداوار کے 10 فیصد حصہ کامالک تھا اور کورونا کی بین الاقوامی وبا سے پہلے سفر و سیاحت کی صنعت دنیابھرمیں 320 ملین افراد کے روزگار کاسبب بھی تھا۔ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی رپورٹ کے مطابق …
کووڈ۔19 کی عالمی وبا سے قبل سفرو سیاحت کا شعبہ بین الاقوامی معیشت کااہم جزو تھا، آئی ایم ایف کی رپورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔17مارچ (اے پی پی):کووڈ۔19 کی عالمی وبا سے قبل سفرو سیاحت کا شعبہ بین الاقوامی معیشت کااہم جزو تھا، عالمی سطح پر ٹریول اینڈ ٹور ازم سیکٹر مجموعی بین الاقوامی پیداوار کے 10 فیصد حصہ کامالک تھا اور کورونا کی بین الاقوامی وبا سے پہلے سفر و سیاحت کی صنعت دنیابھرمیں 320 ملین افراد کے روزگار کاسبب بھی تھا۔ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی رپورٹ کے مطابق 1950 میں دنیا بھرمیں صرف 25 ملین افراد بین الاقوامی سطح پر سفر کرتے تھے تاہم 2019 کے اختتام تک عالمی سطح پر سفرکرنے والے مسافروں کی تعداد 1.5 ارب سے تجاوز کر گئی ۔ رپورٹ کےمطابق دنیاکے مختلف ممالک کی معیشت کا انحصار سفر و سیاحت کی صنعت پر ہے۔
کووڈ۔19 کی وبا کے باعث دنیا بھر میں سفر و سیاحت کی صنعت کو شدید مشکلات کاسامنا ہے کیونکہ کورونا وائرس کے خدشہ کے باعث زیادہ تر افراد سفر اور سیاحت سے گریزاں ہیں جس کی وجہ متعدد ممالک کی معیشتوں کو مسائل درپیش ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کووڈ۔19 سے قبل سفری و سیاحت کی صنعت عالمی معیشت میں اہم معیشت کی حامل صنعت تھی جو بین الاقوامی جی ڈی پی میں 10 فیصد کی شراکت داراور 320 ملین سے زیادہ افراد کے روزگار کابھی سبب تھی۔
رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث شعبہ کے 100 ملین کارکنوں کے روزگار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ عالمی وبا کے باعث سفر و سیاحت کی صنعت سے وابستہ کئی چھوٹے اور درمیانے درجہ کے کاروباری اداروں میں کام کرنے والے افراد کے روزگار کو سنگین خدشات درپیش ہیں۔ واضح رہے کہ سیاحت کے شعبہ کی 54 فیصد افرادی قوت خواتین پر مشتمل ہے ۔ آئی ایم ایف نے کہاہے کہ سال 2019 کے لیول تک پہنچنے کے لئے سفر وسیاحت کے شعبہ کو 2023 تک انتظار کرنا ہو گا۔








