کوویڈ۔19کی وبا کے عالمی چیلنج کے باوجود بھارت نسل پرستی اور انتہاء پسندی کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے، مسلمانوں کو بدنام کرنے کی منظم مہم چلائی جا رہی ہے متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے تعاون سے پاکستانیوں کی مرحلہ وار وطن واپسی کا عمل جاری ہے ترجمان دفتر خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ

اسلام آباد ۔ 23 اپریل (اے پی پی) پاکستان نے ہندو انتہاء پسند تنظیم آر ایس ایس اور فاشسٹ نظریات کی حامل بھارتی حکومت کی مسلمان مخالف کارروائیوں اور امتیازی پالیسیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ بدقسمتی سے کوویڈ۔19کی وبا کے عالمی چیلنج کے باوجود بھارت نسل پرستی اور انتہاء پسندی کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ میں دفتر …

اسلام آباد ۔ 23 اپریل (اے پی پی) پاکستان نے ہندو انتہاء پسند تنظیم آر ایس ایس اور فاشسٹ نظریات کی حامل بھارتی حکومت کی مسلمان مخالف کارروائیوں اور امتیازی پالیسیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ بدقسمتی سے کوویڈ۔19کی وبا کے عالمی چیلنج کے باوجود بھارت نسل پرستی اور انتہاء پسندی کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ میں دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کورونا وائرس کی وبا کے عالمی چیلنج سے قطع نظر بھارت میں مسلمانوں کو بدنام کرنے کی غرض سے ایک منظم مہم چلائی جا رہی ہے جنہیں ہندو انتہاء پسندوں کی جانب سے تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) نے بھی بھارتی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بڑھتے ہوئے مسلم مخالف جذبات اور اسلامو فوبیا پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جہاں سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے بھارتی مسلمانوں کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔ ترجمان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کے حوالہ سے کہا کہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے اور وہاں بے گناہ کشمیریوں کا قتل عام، طاقت کا استعمال اور مواصلات کی بندش بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر بڑھتے ہوئے مظالم اور قتل و غارت گری پر گہری تشویش لاحق ہے۔ ترجمان نے کہا کہ وزارت خارجہ اور بیرون ملک ہمارے مشنز کورونا وائرس کی وبا کے تناظر میں بیرون ملک مقیم پاکستانی برادری کو ریلیف اور ضرورت مندوں کو خوراک کا راشن اور مالی امداد فراہم کر رہے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے تعاون سے پاکستانیوں کی مرحلہ وار وطن واپسی کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تیسرے مرحلہ میں 5 ہزار سے زائد پاکستانیوں کو مختلف ممالک سے واپس لایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ گذشتہ دنوں ایک ہزار 224 پاکستانی شہریوں کو زمینی سرحدوں کے ذریعے وطن واپس لایا گیا ہے جس میں واہگہ بارڈر کے راستے بھارت سے 41 پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔