لندن ۔2جولائی (اے پی پی):کویت میں 1990 میں یرغمال بنائے گئے برٹش ایئرویز کی پرواز کے مسافروں اور عملے نے برطانوی حکومت اور ایئرلائن کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔اردو نیوز کے مطابق برٹش ایئرلائنز کی پرواز 149 میں سوار مسافروں کو کوالالمپور کے بجائے ایک خلیجی ریاست میں دو اگست کو اُتار لیا گیا تھا۔ یہ واقعہ صدام حسین کی فوجوں کے کویت میں داخل ہونے کے …
کویت میں 1990 میں یرغمال بنائے گئے مسافروں کا برطانوی حکومت کے خلاف مقدمہ

مزید خبریں
لندن ۔2جولائی (اے پی پی):کویت میں 1990 میں یرغمال بنائے گئے برٹش ایئرویز کی پرواز کے مسافروں اور عملے نے برطانوی حکومت اور ایئرلائن کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔اردو نیوز کے مطابق برٹش ایئرلائنز کی پرواز 149 میں سوار مسافروں کو کوالالمپور کے بجائے ایک خلیجی ریاست میں دو اگست کو اُتار لیا گیا تھا۔ یہ واقعہ صدام حسین کی فوجوں کے کویت میں داخل ہونے کے چند گھنٹے بعد پیش آیا تھا۔جہاز میں سوار مسافروں اور عملے سمیت 367 افراد نے چار ماہ سے زائد عرصہ قید میں گزارا تھا جنہیں عراق میں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔قانونی فرم میک کیو جیوری اینڈ پارٹنرز نے بتایا کہ ان میں سے 94 افراد نے لندن میں ہائی کورٹ میں دعویٰ دائر کیا ہے جس میں برطانوی حکومت اور برٹش ایئرلائنز پر شہریوں کو جان بوجھ کر خطرے میں ڈالنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
قانونی فرم نے کہا کہ تمام دعویدار جسمانی اور نفسیاتی طور پر متاثر ہوئے جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔مذکورہ افراد کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ برطانیہ کی حکومت اور ایئر لائن کو معلوم تھا کہ حملہ ہو چکا ہے لیکن اس کے باوجود پرواز کو لینڈ کرنے کی اجازت دی گئی۔فرم کے مطابق انہوں نےخفیہ سپیشل آپریشنز ٹیم کو کویت میں اُتارنے کے لیے پرواز کا استعمال کیا۔کویت پر عراقی قبضے کے دوران برٹش ایئرویز کی پرواز بی اے 149 کی کویت میں لینڈنگ اس لیے متنازع ہے کیونکہ اس کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس پرواز کو برطانوی حکومت نے ایک خفیہ مشن کے لیے استعمال کیا۔پرواز 149 میں سوار بیری مینرز جو اس قانونی کارروائی میں شریک ہیں نے بتایا کہ ہمارے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا گیا جو شہریوں کے ساتھ کیا جاتا ہے بلکہ تجارتی اور سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیے جانے والے پیادوں جیسا برتاؤ کیا گیا۔نومبر 2021 میں جاری ہونے والی برطانوی حکومت کی رپورٹس سے انکشاف ہوا کہ کویت میں برطانیہ کے سفیر نے پرواز کے اُترنے سے قبل عراق پر حملے کی اطلاعات کے بارے میں برطانیہ کو آگاہ کیا تھا لیکن یہ پیغام برٹش ایئرلائنز تک نہیں پہنچایا گیا۔ایسے دعوے بھی کیے گئے ہیں کہ برطانیہ نے جان بوجھ کر جاسوسوں کو اُتارنے کے لیے پرواز کا استعمال کرکے مسافروں کی جان کو خطرے میں ڈالا اور انہیں سوار ہونے کی اجازت دینے کے لیے ٹیک آف میں تاخیر کی۔تاہم حکومت ان دعوؤں کی تردید کرتی ہے۔ برطانوی حکومت نے اس قانونی کارروائی پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔برٹش ایئرویز لاپرواہی، سازش اور پردہ پوشی کے الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔ایئر لائن نے اے ایف پی کی جانب سے تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا تاہم گزشتہ سال کہا تھا کہ 2021 میں جاری کیے گئے ریکارڈز نے تصدیق کی ہے کہ برٹش ایئرویز کو حملے کے بارے میں خبردار نہیں کیا گیا تھا۔








