کپاس کی بہترین پیداوار حاصل کرنے کیلئے زمین کی سخت تہہ کا توڑنا انتہائی ضروری ہے،سیکرٹری زراعت

ملتان۔ 20 مارچ (اے پی پی):سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل کی زیر صدارت ایگریکلچر سیکرٹریٹ میں کپاس کی منافع بخش کاشت سے متعلق اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں کپاس کی اگیتی وموسمی کاشت کیلئے ٹرپل جین ومنظور شدہ اقسام کی مقامی موسمی حالات کے مطابق سفارشات،مارکیٹ میں معیاری بیج،کھادوں وزرعی زہروں کی دستیابی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل …

ملتان۔ 20 مارچ (اے پی پی):سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل کی زیر صدارت ایگریکلچر سیکرٹریٹ میں کپاس کی منافع بخش کاشت سے متعلق اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں کپاس کی اگیتی وموسمی کاشت کیلئے ٹرپل جین ومنظور شدہ اقسام کی مقامی موسمی حالات کے مطابق سفارشات،مارکیٹ میں معیاری بیج،کھادوں وزرعی زہروں کی دستیابی کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے کہا کہ موجودہ درجہ حرارت کپاس کی کاشت و بیج کے شرح اگاؤ کیلئے بہترین ہے،کاشتکاروں کو اگیتی کاشت بارے رہنمائی کی فراہمی جاری رکھی جائے۔

انہوں نے کہا کہ کپاس کی بہترین پیداوار حاصل کرنے کیلئے زمین کی سخت تہہ کا توڑنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ اس سے پودے کو خوراک کے حصول میں آسانی رہتی ہے جس سے وہ توانا وتندرست رہتا ہے اور بہترطور پر بیماریوں و کیڑوں کے حملوں کا مقابلہ کرتا ہے۔

انہوں نے متعلقہ افسران و عملہ کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کپاس کی آئی پی ایم ٹیکنالوجی پر عملدرآمد کو 100 فیصد یقینی بنایا جائے، کپاس کی کاشت سے متعلق درست ڈیٹا مرتب کرکے شیئر کیا جائے تاکہ اس حساب سے فصل کی نگہداشت بارے بروقت اور صحیح فیصلہ سازی کی جا سکے۔

سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب نے مزید کہا کہ پیسٹی سائیڈز انسپکٹرز وفرٹیلائزر کنٹرولرزکی کارکردگی جعلی زرعی مداخل کے کاروبار میں ملوث عناصر کیخلاف ایف آئی آرز اور گرفتاریوں سے منسلک ہے،مارکیٹوں میں معیاری زرعی مداخل کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے سخت مانیٹرنگ کی جا ئے، ملاوٹ اور غیر معیاری زرعی مداخل کے دھندے میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن کیا جا ئے۔

اس موقع پر سیکرٹری زراعت نے کہا کہ کپاس کی اگیتی کاشت سے پھٹی کا معیار بہتر ہوتا ہے اور اس پر ضرر رساں کیڑوں کے حملہ کے امکانات بھی کم ہوتے ہیں، کاشتکاروں کو اگیتی کپاس سے متعلق تمام اُمور بارے راہنمائی فراہم کی جائے۔