وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت فرٹیلائزر ریویو کمیٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس صدارت پیر کو منعقد ہوا۔ اجلاس میں تمام اہم شراکت داروں، کھاد بنانے والی کمپنیوں کے نمائندگان اور متعلقہ محکموں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں خاص طور پر خطے میں پیدا شدہ چیلنجز کے تناظر میں یوریا …
کھاد کی پیداوار اور فراہمی پر حکومت کی جانب سے مربوط اور موثر نگرانی جاری ہے، وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق

مزید خبریں
اسلام آباد۔9مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت فرٹیلائزر ریویو کمیٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس صدارت پیر کو منعقد ہوا۔ اجلاس میں تمام اہم شراکت داروں، کھاد بنانے والی کمپنیوں کے نمائندگان اور متعلقہ محکموں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں خاص طور پر خطے میں پیدا شدہ چیلنجز کے تناظر میں یوریا اور ڈی اے پی کھاد کی موجودہ طلب و رسد کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران وفاقی وزیر نے زور دیا کہ حکومت مارکیٹ پر نظر رکھے ہوئے ہے اور کسانوں پر کسی بھی غیر ضروری بوجھ سے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ تمام کھاد کے پلانٹ فعال ہیں اور گیس کی بلا تعطل فراہمی سے پیداوار مسلسل جاری ہے جبکہ ڈی اے پی کے پلانٹ بھی مکمل طور پر فعال ہیں۔ مزید برآں لاجسٹک نظام بھی موثر طریقے سے کام کر رہا ہے اور مستقبل میں کسی بھی رکاوٹ سے نمٹنے کے لئے ہنگامی منصوبے تیار کیے گئے ہیں۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت متبادل فراہمی کے طریقہ کار پر عمل درآمد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے تاکہ کسی بھی قسم کے حالات میں کھاد کسانوں تک پہنچ سکے اور زرعی پیداوار اور غذائی تحفظ محفوظ رہے۔اجلاس میں یہ بھی زور دیا گیا کہ مقامی اور صوبائی سطح پر قیمتوں کی نگرانی ضروری ہے تاکہ مصنوعی قلت یا ذخیرہ اندوزی سے بچا جا سکے اور کھاد کسانوں کے لئے دستیاب اور سستی رہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ملکی پیداوار کو مضبوط بنانے اور درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لئے حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ انہوں نے صنعتکاروں، تقسیم کاروں اور صوبائی حکام کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا تاکہ سپلائی چین بلا تعطل جاری رہے۔ اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا کہ حکومت خطے میں رکاوٹوں کے باوجود زراعت کو محفوظ بنانے کے لیے پرعزم ہے اور کھاد کی مارکیٹ کو مستحکم رکھنے کے لیے فعال اقدامات جاری رکھے گی تاکہ کسانوں کی موجودہ اور مستقبل کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔








