ممبئی۔8اکتوبر (اے پی پی):نیوزی لینڈ کے سابق کپتان کین ولیم سن نے عالمی سطح پر ٹیسٹ کرکٹ کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ فریقوں سے سنجیدہ اقدامات اور اضافی وسائل فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کرکٹ ویب سائٹ کے مطابق ممبئی میں سی ای اے ٹی کرکٹ ریٹنگ ایوارڈز کی تقریب کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئےکین ولیم سن نے کہا کہ ٹیسٹ فارمیٹ کو زندہ رکھنے کے لیے …
کین ولیم سن کا ٹیسٹ کرکٹ کے تحفظ اور فروغ پر زور، اضافی وسائل کا مطالبہ
ممبئی۔8اکتوبر (اے پی پی):نیوزی لینڈ کے سابق کپتان کین ولیم سن نے عالمی سطح پر ٹیسٹ کرکٹ کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ فریقوں سے سنجیدہ اقدامات اور اضافی وسائل فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کرکٹ ویب سائٹ کے مطابق ممبئی میں سی ای اے ٹی کرکٹ ریٹنگ ایوارڈز کی تقریب کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئےکین ولیم سن نے کہا کہ ٹیسٹ فارمیٹ کو زندہ رکھنے کے لیے فوری حل تلاش کرنا ضروری ہے، خصوصاً ان ممالک میں جہاں یہ فارمیٹ شدید چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔35 سالہ کین ولیم سن نے دو میچوں کی ٹیسٹ سیریز کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ طویل سیریز کا انعقاد مالی لحاظ سے مشکل ہے، لیکن عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ نے اس فارمیٹ کو نئی جان بخشی ہے۔
انہوں نے دو درجوں پر مشتمل نظام پر بھی خدشات کا اظہار کیا کہ اس سے نچلی سطح کی ٹیموں کی ترقی رک سکتی ہے۔انہوں نے نیوزی لینڈ کی بھارت میں تاریخی0-3سیریز فتح کو اپنی قوم کی سب سے بڑی ٹیسٹ کامیابی قرار دیا۔
کین ولیم سن نے کہا کہ اگرچہ وہ اب مرکزی کنٹریکٹ کا حصہ نہیں، لیکن قومی ٹیم کے ساتھ وابستگی برقرار ہے اور وہ مزید کرکٹ کھیلنے کے خواہشمند ہیں۔کین ولیم سن کو 105 ٹیسٹ،173 ون ڈے اور 93 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز میں نیوزی لینڈ کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ نے ٹیسٹ کرکٹ میں نئی جان ڈالی ہے۔انہوں نے کہا کہ اب بھی قومی ٹیم کی نمائندگی میرے لیے باعث فخر ہے اور میں اپنا تجربہ نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ بانٹنا چاہتا ہوں۔









