کیو آر کوڈ نظام کے تحت 20 لاکھ بجلی صارفین سبسڈی کے لئے رجسٹر

پاکستان میں تقریباً 20 لاکھ سنگل فیز بجلی صارفین نے سبسڈی کے لئے اہلیت کی تصدیق کے مقصد سے متعارف کرائے گئے کیو آر کوڈ نظام کے تحت رجسٹریشن کرا لی ہے۔

اسلام آباد۔2جون (اے پی پی):پاکستان میں تقریباً 20 لاکھ سنگل فیز بجلی صارفین نے سبسڈی کے لئے اہلیت کی تصدیق کے مقصد سے متعارف کرائے گئے کیو آر کوڈ نظام کے تحت رجسٹریشن کرا لی ہے۔وزارتِ توانائی کے سرکاری دستاویزات جو ویلتھ پاکستان کو دستیاب ہیں، کے مطابق محفوظ صارفین کی تعداد مالی سال 2022 میں 95 لاکھ سے بڑھ کر 2026 میں 2 کروڑ 15 لاکھ ہو گئی ہے جبکہ سبسڈی حاصل کرنے والے گھریلو صارفین کی مجموعی تعداد 2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار تک پہنچ چکی ہے جو تمام گھریلو صارفین کا 86 فیصد بنتی ہے۔

دستاویز کے مطابق محفوظ صارفین کے لئے سالانہ سبسڈی مالی سال 2022 کے 199 ارب روپے سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 423 ارب روپے ہو گئی ہے۔رہائشی اور زرعی شعبے کے لئے مجموعی سبسڈی 527 ارب روپے بتائی گئی ہے جس میں 249 ارب روپے حکومت کی جانب سے فراہم کئے جا رہے ہیں جبکہ 278 ارب روپے دیگر صارفین سے حاصل ہونے والی کراس سبسڈی کے ذریعے دیئے جا رہے ہیں۔

وزارتِ توانائی کا کہنا ہے کہ حکومت کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لئے سہولت ختم نہیں کر رہی، بلکہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ سبسڈی صرف مستحق صارفین تک پہنچے۔ اہلیت کے معیار کا تعین عوامی مشاورت کے بعد کیا جائے گا جبکہ تصدیق شدہ صارفین کو بلا تعطل سبسڈی ملتی رہے گی۔وزارت نے بجلی کے شعبے میں لاگت کم کرنے کے لئے کئے گئے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ ان میں آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (آئی پی پیز) کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی کے نتیجے میں مجموعی طور پر 3.5 کھرب روپے کی بچت، سرکاری ملکیت کی غیر ضروری بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کی مشینری فروخت کرنے سے 47 ارب روپے کی آمدن، مالی سال 2024-25 میں تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات میں کمی کے باعث 193 ارب روپے کی بچت اور اسی سال گردشی قرضے میں 780 ارب روپے کی کمی شامل ہے۔

ٹیرف کے حوالے سے دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ مارچ 2024 سے مئی 2026 کے دوران مختلف صارفین کے لئے بجلی کے نرخوں میں کمی آئی ہے۔ملکی سطح پر بجلی کا اوسط نرخ تمام ٹیکسوں اور چارجز سمیت 53.04 روپے فی یونٹ سے کم ہو کر 42.26 روپے فی یونٹ رہ گیا جو 20 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے محفوظ صارفین کے لئے مجموعی نرخ 24.07 روپے فی یونٹ سے کم ہو کر 16.56 روپے فی یونٹ ہو گیا۔ اسی عرصے میں صنعتی صارفین کے لئے نرخ 62.99 روپے سے کم ہو کر 42.40 روپے فی یونٹ، تجارتی صارفین کے لیے 76 روپے سے کم ہو کر 70.08 روپے فی یونٹ جبکہ زرعی صارفین کے لئے 47.56 روپے سے کم ہو کر 40.82 روپے فی یونٹ رہ گیا۔

دستاویز کے مطابق 2025 میں بجلی کی پیداوار کے مجموعی ذرائع میں صاف توانائی کا حصہ 55 فیصد تھا جسے 2035 تک بڑھا کر 90 فیصد تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔اسی طرح مقامی ایندھن کا حصہ 2025 میں 74 فیصد تھا جو 2035 تک بڑھ کر 96 فیصد ہونے کی توقع ہے جبکہ ایندھن کی درآمدات پر آنے والا سالانہ خرچ 2.4 ارب ڈالر سے کم ہو کر 0.3 ارب ڈالر رہ جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔