کے پی حکومت سیاسی سرگرمیوں کے بجائےدہشت گردی کے خاتمے،پولیس اور سکیورٹی فورسز کے استحکام پر توجہ دے ، زاہد خان کی پریس کانفرنس

کے پی حکومت سیاسی سرگرمیوں کے بجائےدہشت گردی کے خاتمے،پولیس اور سکیورٹی فورسز کے استحکام پر توجہ دے ، زاہد خان کی پریس کانفرنس

اسلام آباد۔26ستمبر (اے پی پی):مسلم لیگ (ن ) کے رہنما زاہد خان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف تحریک طالبان پاکستان کی سہولت کار ہے، پی ٹی آئی اور دہشت گرد تنظیموں کے درمیان مبینہ روابط کے معاملات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں،خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کے باعث عوام شدید اضطراب کا شکار ہیں،صوبائی حکومت کو اپنی تمام تر توجہ امن و امان کی بحالی پر مرکوز کرنی چاہیے، افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں اور صوبائی حکومت کو اس معاملے پر واضح پالیسی اختیار کرنی چاہیے،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی حکومت،صوبائی حکومت، پولیس اور سکیورٹی فورسز کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کوخیبر پختونخوا سےتعلق رکھنے والی مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی ثمر ہارون بلوراورپارٹی رہنما مرتضیٰ جاوید عباسی کے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔زاہد خان نےکہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے، صوبائی حکومت کو سیاسی سرگرمیوں کے بجائےدہشت گردی کے خاتمے،پولیس اور سکیورٹی فورسز کے استحکام پر توجہ دینی چاہیے۔ثمر ہارون بلور نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس نےدہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور پولیس صوبے کا فخر ہے، تاہم صوبائی حکومت کی جانب سےپولیس سے متعلق قانون میں ہنگامی طور پر ترامیم کا مقصد اور طریقہ کار قابلِ سوال ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کوچاہیے کہ پولیس کو مزید اختیارات، وسائل اور سہولیات فراہم کرے تاکہ وہ دہشت گردی کا مؤثر مقابلہ کر سکے۔مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کے بجائے سیاسی سرگرمیوں پرزیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نےاپنے ضلعےکے ہسپتال سمیت مختلف ترقیاتی منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام کوصحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور روزگار کے مسائل کا سامنا ہے جن کے حل کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔رہنماؤں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن دہشت گردی کے خلاف قومی سطح پر اتفاق رائے ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو آئینی اور قانونی راستہ اختیار اور ریاستی اداروں کے خلاف محاذ آرائی سے گریز کرنا چاہیے۔انہوں نے حالیہ لانگ مارچ اور احتجاجی سرگرمیوں کےحوالے سے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے ان سرگرمیوں کو بھرپور پذیرائی نہیں دی۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عوام امن، استحکام اور معاشی ترقی چاہتے ہیں اور کسی بھی ایسی سرگرمی کے حق میں نہیں جو صوبے میں مزید بے یقینی پیدا کرے۔ن لیگی رہنماؤں نے کہا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثراقدامات اور پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت قومی ترجیح ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پولیس اور سکیورٹی فورسز کو مکمل سیاسی، انتظامی اور مالی معاونت فراہم کرنا ہوگی۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال، دہشت گردی کے نیٹ ورک، مبینہ سہولت کاری اور سرکاری وسائل کے استعمال سے متعلق معاملات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے آسکیں۔