اسلام آباد۔5مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر نے کہا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں پاکستان کی معیشت نے دیوالیہ پن کے خطرے سے نکل کر عالمی سطح پر ایک مثالی کیس سٹڈی کی حیثیت اختیار کرلی ہے، اور اب حکومت 2035 تک معیشت کو ایک ٹریلین ڈالر تک لے جانے کے ہدف پر کام کر رہی ہے۔اے پی پی سے گفتگو کرتے …
گزشتہ دو برسوں میں پاکستان کی معیشت نے دیوالیہ پن کے خطرے سے نکل کر عالمی سطح پر مثالی کیس سٹڈی کی حیثیت اختیار کرلی ہے،وفاقی وزیر احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔5مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر نے کہا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں پاکستان کی معیشت نے دیوالیہ پن کے خطرے سے نکل کر عالمی سطح پر ایک مثالی کیس سٹڈی کی حیثیت اختیار کرلی ہے، اور اب حکومت 2035 تک معیشت کو ایک ٹریلین ڈالر تک لے جانے کے ہدف پر کام کر رہی ہے۔اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دو سال قبل پاکستان کو شدید معاشی بحران کا سامنا تھا، تاہم مؤثر حکمرانی اور اصلاحات کے باعث آج بڑی عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی بحالی کو بطور مثال پیش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان گورننس فورم کا مقصد وفاقی و صوبائی حکومتوں، وزارتوں، محکموں اور نجی شعبے کو “اُڑان پاکستان” ایجنڈے کے تحت قابلِ عمل اصلاحات پر یکجا کرنا ہے تاکہ 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔احسن اقبال نے کہا کہ حکومت 5Es فریم ورک ایکویٹی، ایکسپورٹس، انرجی، انوائرنمنٹ اور ای پاکستان پر عمل پیرا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت برآمدات کو 100 ارب ڈالر سے زائد تک لے جانے، پاکستان کو ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنے، مصنوعی ذہانت (AI) کو اپنانے اور ماحولیاتی، توانائی اور سماجی چیلنجز سے نمٹنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ صرف انفراسٹرکچر ترقی کے لیے کافی نہیں۔بہترین ہارڈویئر بھی سافٹ ویئر کے بغیر بے معنی ہے۔انہوں نے انسانی سرمائے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہاکہ عمارتیں اور سڑکیں اس وقت تک فائدہ مند نہیں جب تک ہم اپنے لوگوں کی تعلیم، صحت اور مہارتوں میں سرمایہ کاری نہیں کرتے۔ وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ پاکستان کے سامنے دو راستے ہیں۔ اگر روایتی انداز اپنایا گیا تو 2035 تک معیشت کا حجم زیادہ سے زیادہ 600 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، لیکن اگر جامع اصلاحات اور قومی ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے تو ایک ٹریلین ڈالر کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ان دونوں نتائج کے درمیان فرق “گورننس کے معیار” کا ہے۔
انہوں نے اہم چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آبادی میں 2.55 فیصد اضافہ، 40 فیصد بچوں کا غذائی قلت (اسٹنٹنگ) کا شکار ہونا، تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ بچوں کا اسکولوں سے باہر ہونا اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کا صرف 10 فیصد ہونا سنگین مسائل ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب تک تعلیم، صحت، آبادی کی منصوبہ بندی اور غذائی قلت جیسے مسائل حل نہیں کیے جاتے، پاکستان عالمی مسابقت میں آگے نہیں بڑھ سکتا۔ انہوں نے کہا برآمدات ہمارے مستقبل کی لائف لائن ہیں اور مطلوبہ سطح حاصل کیے بغیر معاشی خودمختاری ممکن نہیں۔
احسن اقبال نے مزید کہا کہ فورم کے ذریعے نجی شعبے کو پالیسی سازوں کے ساتھ براہ راست مسائل اٹھانے کا موقع ملا، جس سے شواہد کی بنیاد پر اصلاحات کو تیز کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود تمام صوبوں کی شرکت خوش آئند ہے اور “ٹیم پاکستان” کے طور پر معاشی ترقی کے لیے مشترکہ جدوجہد ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر اور 2047 تک تین ٹریلین ڈالر معیشت کا ہدف قومی یکجہتی اور اصلاحات سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی استحکام اور اصلاحات نے ملک کو عالمی سطح پر بحالی کی ایک مثال بنا دیا ہے، اور اب توجہ انسانی سرمائے کی مضبوطی، برآمدات میں اضافے اور پائیدار و جامع ترقی پر مرکوز ہے تاکہ پاکستان اپنی مکمل معاشی صلاحیت کو بروئے کار لا سکے۔








