گزشتہ مالی سال نجی شعبے کو فراہم کئے گئے قرضوں میں میں ریکارڈ اضافہ معاشی پیداواری سرگرمیوں میں تیزی کی عکاسی کرتا ہے،خرم شہزاد

"مشیر وزیرِ خزانہ خرم شہزاد نے کہا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے دوران نجی شعبے کو بینکوں کی جانب سے فراہم کیے گئے قرضوں میں 1.46 ٹریلین روپے، یعنی 14.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد نجی شعبے کے مجموعی قرضے 11.38 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے۔”

اسلام آباد۔2اگست (اے پی پی):مشیر وزیرِ خزانہ خرم شہزادنے کہا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے دوران نجی شعبے کو بینکوں کی جانب سے فراہم کیے گئے قرضوں میں 1.46 ٹریلین روپے (14.8 فیصد) کا اضافہ ریکارڈ کیا گیاجس کے بعد نجی شعبے کے مجموعی قرضے 11.38 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے۔

یہ گزشتہ چار برسوں میں نجی شعبے کے قرضوں کی بلند ترین سالانہ توسیع ہے۔اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ کاروباری شعبے کو دیے گئےقرضوں میں 1.18 ٹریلین روپے (14 فیصد) کا اضافہ ہوا جو نجی شعبے کے مجموعی قرضوں میں ہونے والے اضافے کا 80 فیصد سے زائد بنتا ہے۔ یہ رجحان معیشت کی پیداواری سرگرمیوں کے لیے مالی معاونت میں نمایاں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کاروباری قرضوں میں ہونے والے مجموعی اضافے کا تقریباً 89 فیصد تین اہم پیداواری شعبوں میں مرکوز رہا جن میں مینوفیکچرنگ کا حصہ 56 فیصد، ہول سیل و ریٹیل تجارت کا 18 فیصد اور زراعت کا 15 فیصد رہا۔صرف مینوفیکچرنگ کے شعبے کو 657 ارب روپے کے نئے قرضے فراہم کیے گئے جو صنعتی سرگرمیوں میں وسعت کی نشاندہی کرتے ہیں جبکہ تجارت اور زراعت کے شعبوں کو بھی نمایاں مالی معاونت ملی جس سے پیداوار، کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری میں اضافے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق نجی شعبے کو قرضوں میں اضافہ معاشی سرگرمیوں کے فروغ کا ایک اہم اشاریہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت میں اضافے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور مستقبل کی طلب پوری کرنے کے لیے مالی وسائل حاصل کرتے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیداواری شعبوں کی جانب قرضوں کے بڑھتے ہوئےرجحان سے کاروباری اعتماد، نجی سرمایہ کاری، معاشی استحکام، مالیاتی حالات میں بہتری اور جاری ساختی اصلاحات کے مثبت اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق قرضوں کی مقدار کے ساتھ ساتھ ان کا استعمال بھی اہمیت رکھتا ہےاور موجودہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مالی وسائل ایسے شعبوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں جو پیداواری صلاحیت، مسابقت، برآمدات اور نجی شعبے کی قیادت میں پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔