گلگت بلتستان میں ٹیکس استثنیٰ کا نظام نہایت احتیاط سے ترتیب دیا گیا ہے، نظام میں قومی محصولات کے تحفظ اور ملک بھر کے تاجروں کے مفادات کیلئے مناسب حفاظتی اقدامات شامل ہیں، ایف بی آر

اسلام آباد۔30دسمبر (اے پی پی):فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے ملک بھر کے تاجروں اور کاروباری برادری کو یقین دلایا ہے کہ گلگت بلتستان میں ٹیکس استثنیٰ کا نظام نہایت احتیاط سے ترتیب دیا گیا ہے ، اس کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے، یہ نظام پاکستان کے دیگر حصوں میں منصفانہ مسابقت یا جائز تجارتی مفادات کو کسی طرح نقصان نہیں پہنچائے گا، نظام میں قومی محصولات …

اسلام آباد۔30دسمبر (اے پی پی):فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے ملک بھر کے تاجروں اور کاروباری برادری کو یقین دلایا ہے کہ گلگت بلتستان میں ٹیکس استثنیٰ کا نظام نہایت احتیاط سے ترتیب دیا گیا ہے ، اس کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے، یہ نظام پاکستان کے دیگر حصوں میں منصفانہ مسابقت یا جائز تجارتی مفادات کو کسی طرح نقصان نہیں پہنچائے گا، نظام میں قومی محصولات کے تحفظ اور ملک بھر کے تاجروں کے مفادات کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات شامل ہیں۔ ایف بی آر کی جانب سے منگل کویہاں جاری بیان کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے گلگت بلتستان میں صرف مقامی استعمال کے لیے درآمد کی جانے والی اشیاء پر وفاقی ٹیکس عائد نہ کرنے کے مجوزہ طریقہ کار کے حوالے سے تاجروں،شراکت داروں اور تجارتی تنظیموں کی جانب سے ظاہر کیے گئے تحفظات کا نوٹس لیا ہے۔

ایف بی آر واضح کرتا ہے کہ ٹیکس سے مستثنیٰ اشیاء کے غلط استعمال کو روکنے اور ملک کے دیگر حصوں میں تاجروں اور کاروباری برادری کے مفادات کے تحفظ کیلئے جامع اور مضبوط نظام وضع کر دیا گیا ہے۔بیان کے مطابق گلگت بلتستان کو خصوصی حیثیت حاصل ہے اور بعض وفاقی ٹیکس قوانین جن میں سیلز ٹیکس ایکٹ 1990، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 اور فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 شامل ہیں، اس خطے تک نافذ نہیں کیے گئے۔ اس خصوصی حیثیت کے پیش نظر اور گلگت بلتستان حکومت اور تاجروں کی نمائندگیوں کے بعد وفاقی حکومت نے اس بات پر اتفاق کیا کہ صرف گلگت بلتستان میں استعمال کے لیے سوست ڈرائی پورٹ کے ذریعے کی جانے والی درآمدات پر درآمد کے مرحلے پر سیلز ٹیکس ایکٹ 1990، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 اور فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 کے تحت کوئی محصول عائد نہیں کیا جائے گا تاہم مالی نظم و ضبط کو یقینی بنانے اور ممکنہ غلط استعمال سے بچائو کے لیے اس سہولت کے تحت گلگت بلتستان کے لیے درآمد کی جانے والی اشیاء پر سالانہ 4 ارب روپے کی سخت حد مقرر کی گئی ہے۔

بیان کے مطابق اس پالیسی کو شفاف اور موثر انداز میں نافذ کرنے کے لیے حفاظتی اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں جس کے تحت گلگت بلتستان کی حکومت علاقہ میں استعمال کے لیے ٹیکس فری اشیاء کے لیے ہر تاجر کا علیحدہ کوٹہ مقرر کرے گی۔ مجموعی طور پر یہ کوٹے سالانہ 4 ارب روپے کی حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔ ایف بی آر کے تحت پاکستان کسٹمز نے ویوبوک نظام میں ایک خصوصی ماڈیول تیار کیا ہے جو ان کوٹوں کی خودکار رجسٹریشن، ڈیبٹ اور حقیقی وقت (ریئل ٹائم) میں نگرانی کرے گا۔ جیسے ہی کسی تاجر کا مقررہ کوٹہ مکمل ہو جائے گا، نظام خود بخود مزید ٹیکس فری درآمدات کو روک دے گا اور قانون کے مطابق قابل اطلاق ٹیکس وصول کیے جائیں گے،گلگت بلتستان کی حکومت نے باضابطہ طور پر اس امر کا یقین دلایا ہے کہ ایسی اشیاء کو سختی سے صرف گلگت بلتستان کے اندر ہی استعمال کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ پاکستان کسٹمز نے ایک نفاذی طریقہ کار وضع کیا ہے تاکہ ٹیکس سے مستثنیٰ اشیاء کو گلگت بلتستان سے ملک کے دیگر حصوں میں منتقل ہونے سے روکا جا سکے۔ گلگت بلتستان حکومت اور تاجروں کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے مطابق کسی بھی قسم کی خلاف ورزی، مثلاً ٹیکس فری اشیاء کو گلگت بلتستان سے باہر منتقل کرنے پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس میں تاجروں کے کوٹے کی منسوخی، اشیاء کی ضبطگی اور ضرورت پڑنے پر مجموعی استثنیٰ کی حد میں کمی بھی شامل ہو سکتی ہے۔بیان کے مطابق چونکہ کسٹمز ایکٹ گلگت بلتستان تک نافذ ہے ، اس لیے اس ایکٹ کے تحت عائد تمام ڈیوٹیز (کسٹمز ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹی، اضافی کسٹمز ڈیوٹی وغیرہ) سوست کے کسٹمز سٹیشن کے ذریعے ہونے والی تمام درآمدات پر خواہ ان کا استعمال کسی بھی مقصد کے لیے ہو، وصول کی جائیں گی۔

بیان میں کہاگیاہے کہ ایف بی آر اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ یہ تمام اقدامات مل کر ایک مضبوط، ٹیکنالوجی پر مبنی اور قابل نفاذ فریم ورک فراہم کرتے ہیں جس کا مقصد ٹیکس سے مستثنیٰ اشیاء کے کسی بھی قسم کے لیکجز یا غلط استعمال کو روکنا ہے۔ ملک بھر کے تاجروں اور کاروباری برادری کو یقین دلایا جاتا ہے کہ یہ استثنیٰ کا نظام نہایت احتیاط سے ترتیب دیا گیا ہے ، اس کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے اور یہ پاکستان کے دیگر حصوں میں منصفانہ مسابقت یا جائز تجارتی مفادات کو کسی طرح نقصان نہیں پہنچائے گا، یہ طریقہ کار ایک ہدفی سہولت ہے جو صرف گلگت بلتستان کے عوام اور معیشت کی خدمت کے لیے متعارف کرائی گئی ہے جو اس کی آئینی حیثیت سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے اور جس میں قومی محصولات کے تحفظ اور ملک بھر کے تاجروں کے مفادات کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات شامل ہیں۔