گلگت۔14نومبر (اے پی پی):گلگت بلتستان کے انتخابات میں کونسی سیاسی جماعت میدان مارے گی اور حکمرانی کا تاج کس جماعت کے سر سجے گا؟اسکا فیصلہ کل اتوار کو ہوگا۔دس اضلاع کے 23 حلقوں سے 7 لاکھ سے زائد ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے جبکہ حلقہ 3 میں پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے صدر جعفر شاہ مرحوم کی اچانک موت کے بعد اس حلقے میں انتخابات 22 …
گلگت بلتستان کے انتخابات میں میں حکمرانی کا تاج کس کے سر سجے گا، فیصلہ کل ہوگا
گلگت۔14نومبر (اے پی پی):گلگت بلتستان کے انتخابات میں کونسی سیاسی جماعت میدان مارے گی اور حکمرانی کا تاج کس جماعت کے سر سجے گا؟اسکا فیصلہ کل اتوار کو ہوگا۔دس اضلاع کے 23 حلقوں سے 7 لاکھ سے زائد ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے جبکہ حلقہ 3 میں پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے صدر جعفر شاہ مرحوم کی اچانک موت کے بعد اس حلقے میں انتخابات 22 نومبر کو ہونگے۔ الیکشن کا عمل بغیر کسی وقفے کے صبح 8 بجے سے رات 5 بجے تک جاری رہے گا۔ ووٹرز پر پولنگ سٹیشن کے اندر موبائل فون لے جانے پر مکمل پابندی عائد ہوگی کر دی ہے جبکہ امیدوارں پر پولنگ سٹیشن کے سو میٹر حدود کے اندر پوسٹرز اور بینرز لگانے پر اور چار سو میٹر کے اندر انتخابی مہم چلانے پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے ۔ انتخابات کو صاف،شفاف،غیر جانبدار اور پرامن بنانے کے لیے الیکشن کمیشن گلگت بلتستان اور صوبائی حکومت نے تمام تر انتظامات مکمل کر لئے ہیں ۔ 15 ہزار سے زائد سیکورٹی اہلکار پولنگ سٹیشنز پر خدمات سر انجام دیں گے۔گلگت بلتستان کے انتخابات کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ملک کے دیگر صوبوں سے بھی پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کے خصوصی دستے ان انتخابات کے دوران خدمات سر انجام دیں گے۔الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کے پیش نظر پولنگ کے دوران کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کروانے کے لیے بھرپور اقدامات کئے ہیں،اس دوران تمام پولنگ سٹاف،سیکورٹی اہلکار اور ووٹرز کو ماسک بھی مہیا کئے جائیں گے۔ دوردراز علاقوں سے مربوط ،بروقت اور بہتر رابطے کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں۔ گلگت بلتستان میں 2009 کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی اور 2015 کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن نے کامیابی حاصل کی تھی۔









