گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل اور وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مستونگ میں دہشت گردی کے واقعے میں شہید ہونے والے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کے گھر جا کر اہل خانہ سے تعزیت، فاتحہ خوانی اور اظہارِ ہمدردی کیا۔
گورنر اور وزیراعلیٰ بلوچستان کی شہید سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کے اہل خانہ سے تعزیت، بچوں کی تعلیم اور روزگار کی ذمہ داری اٹھانے کا اعلان

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 24 جولائی (اے پی پی):گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل اور وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مستونگ میں دہشت گردی کے واقعے میں شہید ہونے والے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کے گھر جا کر اہل خانہ سے تعزیت، فاتحہ خوانی اور اظہارِ ہمدردی کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان نے شہید جج کے بچوں کی تعلیم اور مستقبل کے حوالے سے اہم اعلانات کرتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر صوبائی وزراء، پارلیمانی سیکرٹریز اور اراکینِ اسمبلی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ گورنر اور وزیراعلیٰ نے شہید جج کے بیٹوں سے شفقت کا اظہار کرتے ہوئے اہل خانہ کو یقین دلایا کہ حکومت اس مشکل گھڑی میں انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔
گورنر جعفر خان مندوخیل کو بتایا گیا کہ شہید جج کا ایک بیٹا محمد حارث، بیوٹمز یونیورسٹی میں شعبہ قانون کا طالب علم ہے جبکہ بیٹی مومنہ خان بی بی اے میں زیرِ تعلیم ہے۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان نے اعلان کیا کہ دونوں بہن بھائیوں کی تمام تعلیمی فیسیں معاف کی جائیں گی جبکہ محمد حارث کو بیوٹمز یونیورسٹی میں ملازمت فراہم کرنے کی بھی پیشکش کی گئی۔
گورنر جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ شہید جج عبدالحکیم کاکڑ کی گرانقدر خدمات اور دہشت گردی کے خلاف ان کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور حکومت ان کے خاندان کی ہر ممکن معاونت جاری رکھے گی۔ اس موقع پر شہید جج کے لواحقین نے گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل کی آمد، اظہارِ تعزیت اور خاندان کی تعلیم و روزگار کے حوالے سے کیے گئے اعلانات پر ان کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔








