گوگل نے امریکی صارفین کے لیے اپنی میپس سروس پر کینیڈا اور امریکا کے درمیان واقع جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’’لیک امریکا‘‘ کر دیا ہے، یہ تبدیلی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جھیل کا نام تبدیل کرنے کے اعلان کے بعد کی گئی۔
گوگل نے امریکی صارفین کے لیے اپنی میپس سروس پر کینیڈا اور امریکا کے درمیان واقع جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’’لیک امریکا‘‘ کر دیا
واشنگٹن ۔31اگست (اے پی پی):گوگل نے امریکی صارفین کے لیے اپنی میپس سروس پر کینیڈا اور امریکا کے درمیان واقع جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’’لیک امریکا‘‘ کر دیا ہے، یہ تبدیلی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جھیل کا نام تبدیل کرنے کے اعلان کے بعد کی گئی۔
بنگلہ دیش کی نیو زایجنسی بی ایس ایس کے مطابق کینیڈا میں صارفین کو اپنے موبائل فونز اور کمپیوٹرز پر یہ جھیل بدستور ’’لیک اونٹاریو‘‘ کے نام سے ہی دکھائی دے گی۔ گوگل کے مطابق یہ نام 17ویں صدی سے استعمال ہو رہا ہے اور اس کی جڑیں مقامی آبادی کی زبان و تاریخ سے منسلک ہیں۔نام کی تبدیلی پر کینیڈین حکام نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اونٹاریو کے وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ نے امریکا اور کینیڈا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال ’’انتہائی افسوسناک‘‘ اور ’’الٹی سمت میں جانے‘‘ کے مترادف ہے۔
گوگل نے اپنے بلاگ میں بتایا کہ امریکا میں جغرافیائی ناموں میں تبدیلی کے لیے وفاقی حکومت کے سرکاری ڈیٹا بیس ’’یو ایس جیوگرافک نیمز انفارمیشن سسٹم‘‘ (GNIS) کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ اس وجہ سے امریکا میں گوگل میپس استعمال کرنے والوں کو ’’لیک امریکا‘‘، کینیڈا میں ’’لیک اونٹاریو‘‘ جبکہ امریکا اور کینیڈا سے باہر موجود صارفین کو دونوں نام دکھائی دیں گے۔ایپل نے اتوار تک اپنی میپس ایپ پر جھیل کا نام ’’لیک اونٹاریو‘‘ برقرار رکھا تھا۔ یہ ایپ امریکا میں آئی فونز پر پہلے سے موجود ہوتی ہے۔یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی مصنوعات پر جوابی محصولات عائد کیے ہیں۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روزکینیڈا کی آٹو انڈسٹری کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ کینیڈا کی گاڑیاں، آٹو پارٹس یا کوئی بھی کینیڈین مصنوعات نہیں چاہتے۔اونٹاریو کے وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ نے کہا کہ تجارتی جنگ دونوں ممالک کے لیے نقصان دہ ہوگی، تاہم اس کے اثرات امریکا پر زیادہ شدید پڑ سکتے ہیں کیونکہ کینیڈا امریکی گاڑیوں کا ایک بڑا خریدار ہےانہوں نے کہا کہ اگر کینیڈا سے امریکی گاڑیوں کی خریداری میں کمی آتی ہے تو امریکا کی آٹو فیکٹریاں شدید متاثر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا پر عائد محصولات دراصل امریکی عوام پر ٹیکس کے مترادف ہیں۔جھیل اونٹاریو پانچ عظیم جھیلوں میں رقبے کے لحاظ سے سب سے چھوٹی ہے اور یہ کینیڈا کے صوبے اونٹاریو اور امریکی ریاست نیویارک کے درمیان واقع ہے۔









