گوگل نے پاکستانی خاندانوں کو انٹرنیٹ پر محفوظ رکھنے کے لیے ڈیجیٹل پاسبان کا آغاز کر دیا

پاکستانی خاندانوں کو ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ رہنے میں مدد دینے کے لیے گوگل نے ڈیجیٹل پاسبان متعارف کروایا ہے۔ یہ ایک قومی پروگرام ہے جو عملی آن لائن سیفٹی ٹولز کو ملک بھر کے گھرانوں تک پہنچائے گا۔ سیف رہو ود گوگل کے پروگرام میں اعلان کیا گیا کہ ڈیجیٹل پاسبان کا مقصد والدین اور بچوں کو بااختیار بنانا ہے، کیونکہ متعدد گھرانے تعلیم، تفریح اور روزمرہ کاموں کے …

اسلام آباد۔20اگست (اے پی پی):پاکستانی خاندانوں کو ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ رہنے میں مدد دینے کے لیے گوگل نے ڈیجیٹل پاسبان متعارف کروایا ہے۔ یہ ایک قومی پروگرام ہے جو عملی آن لائن سیفٹی ٹولز کو ملک بھر کے گھرانوں تک پہنچائے گا۔ سیف رہو ود گوگل کے پروگرام میں اعلان کیا گیا کہ ڈیجیٹل پاسبان کا مقصد والدین اور بچوں کو بااختیار بنانا ہے، کیونکہ متعدد گھرانے تعلیم، تفریح اور روزمرہ کاموں کے لیے انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں۔اس پروگرام کا مقصد 200,000 گھرانوں تک اردو زبان میں ٹول کٹس، تربیتی ویڈیوز اور عملی تربیت پہنچانا ہے۔

اس قومی کوشش میں اہم شراکت دار شامل ہیں، جن میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، ٹیک ویلی، بیکن ہاؤس اسکول سسٹم، جاز ورلڈ اور ہم نیٹ ورک شامل ہیں۔ اس کوشش کو وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور وزارت بین الصوبائی رابطہ کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ڈیجیٹل پاسبان آن لائن سیفٹی ٹولز کو ڈیجیٹل خواندگی کے ساتھ جوڑتا ہے اور اس کی بنیاد چار اہم ستونوں پر رکھی گئی ہے،یہ ایک مفت پیرنٹل کنٹرول ایپ ہے جو والدین کو اسکرین ٹائم، ایپس کی منظوری، مواد کی فلٹرنگ اور ڈیوائس لوکیشن جیسے بنیادی امور پر کنٹرول دیتی ہے۔ یوٹیوب: عمر کے مطابق مواد کی سیٹنگز اور وقت کے انتظام کے فیچرز جیسے ٹیک اے بریک اور بیڈ ٹائم ریمائنڈرز فراہم کرتا ہے۔

ان کنٹرولز کے ساتھ اب ایک نیا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے جو والدین کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے شارٹس دیکھنے کا وقت مقرر کریں، حتیٰ کہ اسے مکمل طور پر بند بھی کر سکتے ہیں تاکہ بچے پڑھائی اور اسکول کے کام پر توجہ دے سکیں۔یہ پروگرام 7 سے 12 سال کے بچوں کے لیے ڈیجیٹل شہریت کو ایک دلچسپ سرگرمی میں بدل دیتا ہے۔ اس کی بنیاد پانچ اہم اصولوں پر رکھی گئی ہے: احتیاط سے شیئر کرنا، فراڈ سے بچنا، پاس ورڈز کو محفوظ رکھنا، دوسروں سے اچھا سلوک کرنا اور تشویش ناک باتوں کی اطلاع دینا۔ یہ اصول انٹرلینڈ نامی انٹرایکٹو آن لائن گیم کے ذریعے سکھائے جاتے ہیں۔یہ فریم ورک والدین کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ ان کے بچے اے آئی کو ذمہ داری سے کیسے استعمال کریں۔

 

گوگل کا یہ اسسٹنٹ خاندانوں کو ایک ٹول کے طور پر متعارف کرایا جاتا ہے، نہ کہ ایک ساتھی یا انسان کے طور پر۔ اس میں نابالغوں کے لیے خاص حفاظتی اقدامات شامل ہیں جو نقصان دہ کرداروں کے روپ میں بات چیت کو روکتے ہیں اور نامناسب مواد کو بلاک کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ جیمنی کا گائیڈڈ لرننگ فیچر ایک اے آئی ٹیوٹر کی طرح کام کرتا ہے جو طلبہ کو مشکل موضوعات سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ فیچر سوالات پوچھ کر، مسئلے کو مرحلہ وار سمجھا کر اور تصویری مدد فراہم کر کے سیکھنے میں مدد کرتا ہے، بجائے اس کے کہ سیدھا جواب دے دیا جائے۔ڈیجیٹل پاسبان یہ سیفٹی معلومات براہ راست مقامی کمیونٹیز تک پہنچاتا ہے، جس کے لیے نشریاتی میڈیا، ایس ایم ایس الرٹس، شراکت دار اداروں کی سوشل میڈیا مہمات اور اسکولوں میں ٹاؤن ہال سیشنز کا سہارا لیا جائے گا۔

اس پروگرام کا مرکزی حصہ والدین اور سرپرستوں کے لیے سیفٹی کلینکس ہیں، جہاں خاندان اپنے ہم عمر افراد کے ساتھ مل کر انٹرایکٹو ورکشاپس کے ذریعے سیکھ سکیں گے۔ ان ورکشاپس میں والدین حقیقی زندگی کے سیفٹی حالات کی مل جل کر مشق کریں گے، تاکہ وہ اپنے بچوں کی آن لائن رہنمائی کے لیے ضروری اعتماد اور علم حاصل کر سکیں۔اس کے علاوہ Google.org ملک بھر میں ثبوت پر مبنی ڈیجیٹل شہریت اور اے آئی سیفٹی پروگراموں کو وسعت دینے کے لیے 500,000 ڈالر کا عطیہ دے رہا ہے۔ مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر یہ فنڈنگ نوجوانوں اور بڑوں کو صحت مند آن لائن عادات اپنانے اور ڈیجیٹل خطرات کا اعتماد کے ساتھ سامنا کرنے کے قابل بنائے گی۔جمعرات کواس حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین میجر جنرل (ریٹائرڈ) حفیظ الرحمٰن نے کہاکہ ڈیجیٹل پاسبان پاکستان کے بچوں اور خاندانوں کے لیے ایک محفوظ ڈیجیٹل ماحول بنانے کے حوالے سے گوگل کے ساتھ ہماری مشترکہ کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔

عملی ٹولز، مقامی وسائل اور اسکولوں کی شمولیت کے ذریعے یہ پروگرام والدین کو اپنے بچوں کی محفوظ اور ذمہ دارانہ ڈیجیٹل رہنمائی میں مدد دے گا۔ ہم اس اہم کوشش میں تعاون پر گوگل اور تمام شراکت دار اداروں کے شکر گزار ہیں۔پاکستان، فلپائن، تھائی لینڈ اور فرنٹیئر مارکیٹس کے لیے گوگل کے کلسٹر ڈائریکٹر فرحان قریشی نے کہاکہ پاکستان کا ڈیجیٹل نظام مسلسل ترقی کر رہا ہے اور زیادہ سے زیادہ لوگ سیکھنے، تخلیق کرنے اور رابطے کے لیے آن لائن آ رہے ہیں۔ اس ترقی کی حمایت کا مطلب ہے بچوں کو ڈیجیٹل دنیا سے دور رکھنا نہیں بلکہ اس میں ان کی حفاظت کرنا۔ گوگل ایسی پروڈکٹس بنا کر یہ عزم پورا کرتا ہے جو ابتدا سے ہی محفوظ ہوں، اور ڈیجیٹل پاسبان جیسے پروگراموں کے ذریعے ہم اس بنیاد پر خاندانوں کو ضروری ڈیجیٹل خواندگی سے آراستہ کرتے ہیں۔ جس طرح ایک بچے کی پرورش کے لیے پورے معاشرے کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح یہ ضروری ہے کہ مختلف شعبے مل کر کام کریں تاکہ پاکستان کا ہر خاندان اعتماد کے ساتھ انٹرنیٹ استعمال کر سکے۔

ٹیک ویلی کے سی ای او عمر فاروق نے کہاکہ پچھلے دس سالوں سے ٹیک ویلی پاکستان کے کلاس رومز تک دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی پہنچانے کے لیے کام کر رہا ہے، لیکن صرف رسائی کافی نہیں۔ ملک بھر کے والدین ہمیں یہی بتاتے ہیں کہ ڈیجیٹل دنیا اتنی تیزی سے بدل رہی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی رہنمائی نہیں کر پا رہے، اور یہی خلا پریشانی کو جنم دیتا ہے۔ ڈیجیٹل پاسبان اسی خلا ءکو پر کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس میں سیفٹی کلینکس، پیرنٹل ٹول کٹس اور عملی رہنمائی شامل ہے جسے خاندان سیکھتے ہی اسی دن استعمال کر سکتے ہیں۔ 200,000 گھرانوں تک پہنچنا ہماری شروعات ہے، منزل نہیں، اور ہم پاکستان بھر کے ہر والدین اور استاد کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ مل کر ایک محفوظ ڈیجیٹل مستقبل بنائیں۔جاز ورلڈ کے سی ای او عامر ابراہیم نے کہا، "جیسے جیسے ہماری زندگی کا زیادہ حصہ آن لائن ہوتا جا رہا ہے، خاندانوں کو ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ اور پراعتماد طریقے سے چلنے میں مدد دینا اتنا ہی اہم ہو گیا ہے۔

جاز ورلڈ میں ہماری ذمہ داری صرف لوگوں کو جوڑنے تک محدود نہیں بلکہ اس میں خاندانوں کو ڈیجیٹل ماحول سمجھنے اور باخبر و ذمہ دارانہ فیصلے کرنے میں مدد دینا بھی شامل ہے۔ ڈیجیٹل پاسبان والدین اور بچوں تک عملی سیفٹی ٹولز، آگاہی اور رہنمائی پہنچانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ہمیں گوگل اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک محفوظ، جامع اور ڈیجیٹل طور پر بااختیار پاکستان کی تعمیر پر فخر ہے۔ڈیجیٹل پاسبان دراصل گوگل کی پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل میں طویل عرصے سے جاری سرمایہ کاری پر مبنی ہے۔ ڈیجیٹل سفر پروگرام کے ذریعے گوگل نے اب تک 300,000 سے زائد طلبہ اور 5,000 اساتذہ کو ڈیجیٹل شہریت کی تربیت دی ہے، جس میں بی انٹرنیٹ آسم کے مواد کو جیمنی اکیڈمی کی تربیت کے ساتھ ملایا گیا ہے۔

اس بنیاد کو پنجاب حکومت کے ساتھ ایک اہم شراکت داری کے ذریعے مزید مضبوط کیا گیا، جس میں صوبے کی وزارت تعلیم کو گوگل فار ایجوکیشن پر منتقل کیا گیا اور 1.5 ملین طلبہ کو محفوظ اور اے آئی سے چلنے والے تعلیمی ٹولز اور سیفٹی کورسز فراہم کیے گئے۔ تعلیمی وسائل دیکھنے اور یہ ٹولز اپنی کمیونٹی تک پہنچانے کے لیے، مکمل ڈیجیٹل پاسبان ٹول کٹ لنک کے ذریعے حاصل کریں ۔