وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے زمین کے تحفظ کو اجتماعی اور کلیدی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر فرد اور ہر کمیونٹی کو ماحولیاتی تحفظ کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔
ہر فرد اور کمیونٹی کو ماحولیاتی تحفظ کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ، وزیراعظم کا ارتھ آور کی مناسبت سے پیغام

مزید خبریں
اسلام آباد۔28مارچ (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے زمین کے تحفظ کو اجتماعی اور کلیدی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر فرد اور ہر کمیونٹی کو ماحولیاتی تحفظ کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔ آج ہفتہ کو منایا جانے والے ارتھ آور کی مناسبت سے اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے قوم سے اپیل کی کہ اس دن کی مناسبت سے رات 8:30 بجے سے 9:30 بجے تک ایک گھنٹے کے لئے بجلی اور غیر ضروری روشنی بند رکھیں یا کم سے کم استعمال کریں۔
وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ ماحولیاتی چیلنجز سے بھرپور اس دور میں ارتھ آور یاد دہانی کراتا ہے کہ زمین کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ اور کلیدی ذمہ داری ہے۔ رواں سال ارتھ آور "زمین کے لیے ایک گھنٹہ وقف کریں” کے عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے جس کا مقصد ماحولیاتی تحفظ، توانائی کے مؤثر استعمال اور موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق آگاہی پیدا کرنا ہے۔ ارتھ آور محض ایک علامتی اظہار نہیں بلکہ عالمی سطح پر ایک لمحۂ فکر ہےجو پائیدار اور مضبوط ماحولیاتی مستقبل کے لیے تجدید عزم کا موقع فراہم کرتا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ارتھ آور کا پیغام دعوت عمل ہے اور یہ صرف لائٹس بند کرنے تک محدود نہیں بلکہ ہر فرد اور ہر کمیونٹی کو ماحولیاتی ذمہ داری اور تخفظ پر مبنی طرز عمل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ایسے شعوری اقدامات کا مجموعی اثر ایک بڑی مثبت معاشرتی تبدیلی کا باعث بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی بگاڑ کو سدھارنے کے لیے آج ہمارے کیے گئے فیصلے آنے والی نسلوں کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ماحولیاتی مستقبل میں پاکستان کو فکر انگیز صورتحال درپیش ہے۔
اگرچہ پاکستان کا عالمی سطح پر گلوبل وارمنگ کا باعث بننے والی نقصان دہ گیسز کے اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن ہمارا ملک اس موسمیاتی بحران کے اولین متاثرین میں شامل ہے۔ شدید سیلاب، ماحولیاتی تبدیلی کے باعث موسمیاتی شدت اور تباہ کن خشک سالی جیسی آفات ہماری روزمرہ زندگی، خوراک اور پانی کی فراہمی، اور انکے ذخائر کے بنیادی ڈھانچے کے لیے خطرہ ہیں۔ حکومت ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے موسمیاتی مزاحمت پر مبنی ترقیاتی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔
پانی کے نظام اور زرعی شعبہ کی اصلاحات، توانائی کے ماحول دوست متبادل ذرائع میں سرمایہ کاری، گرین ٹیکنالوجی کے فروغ، شہری نظام کی بہتری اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے موثر موسمیاتی اقدامات کو شامل کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماحول کی بحالی اور ایک پائیدار مستقبل کی تعمیر کے لئے حکومت کے عملی اقدامات میں “اپ اسکیلنگ گرین پاکستان پروگرام”، “لیونگ انڈس انیشی ایٹو”اور “ریچارج پاکستان” اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جدید وارننگ سسٹمز کی تنصیب جیسے منصوبے شامل ہیں۔انہوں نے دعوت دی کہ آئیں ہم سب مل کر عالمی مہم میں بھرپور شرکت کریں۔ آج کے ماحول دوست پیغام کو ایک مستقل طرز عمل میں بدل دیں اور اپنے لیے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک سرسبز، محفوظ اور مضبوط و توانا پاکستان کی بنیاد رکھیں۔








