اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی) اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان نے کہا ہے کہ ہماری بھرپور کوشش ہے کہ ریکوڈک کیس میں پاکستان کے حق میں آنے والا حکم امتناع مستقل ہوجائے، حکومت کی نیشنل سیکورٹی اور ریونیو کیسز پر بھر پور توجہ ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عدالت عظمی میں پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کے صحافیوں سے گفتگو کرتے …
ہماری بھرپورکوشش ہے کہ ریکوڈک کیس میں پاکستان کے حق میں آنے والا حکم امتناع مستقل ہوجائے، حکومت کی نیشنل سیکورٹی اور ریونیو کیسز پر بھر پور توجہ ہو گی ،اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان کی صحافیوں سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی) اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان نے کہا ہے کہ ہماری بھرپور کوشش ہے کہ ریکوڈک کیس میں پاکستان کے حق میں آنے والا حکم امتناع مستقل ہوجائے، حکومت کی نیشنل سیکورٹی اور ریونیو کیسز پر بھر پور توجہ ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عدالت عظمی میں پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریکوڈک کیس وزیراعظم عمران خان اور حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، ریکوڈک پاکستان کی معاشی بقاءاور سلامتی کا مقدمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کیس ہو یا پرویز مشر ف غداری کیس دیانت داری کے ساتھ عدالتی معاونت کروں گا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ترجیحات میں اہم بین الاقوامی مقدمات بھی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں کسی مقدمے کو طویل کرنے یا دبانے کے حق میں نہیں ہوں،انہوں نے کہا کہ وزیر قانون فروغ نسیم کیساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے، ان کے ساتھ اچھی ورکنگ ریلیشن شپ رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ اٹارنی جنرل آفس خود مختار ادارہ ہے اور اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ بحثیت ادارہ اور اس کے تمام ججز قابل احترام ہیں،وفاقی حکومت کا قانونی نمائندہ ہو ں ، ذمہ داری کیساتھ اپنے فرائض سر انجام دینے کی بھرپور کوشش کروں گا۔








