لاہور۔15جنوری (اے پی پی):قائمقام گورنر پنجاب ملک محمد احمد خان کہا ہے کہ آنے والا دور مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا ہے، اس لیے ہمیں 2025 سے 2030کے درمیان اپنے پرائمری سکولوں سے ہی اے آئی اور ڈیجیٹل تعلیم کا آغاز کرنا ہوگا۔ وہ پنجاب یونیورسٹی الرازی ہال میں ہنرمند پنجاب سکالرشپ کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی اپنے خیالات کا اظہار کررہے تھے۔ اس موقع پر وزیر تعلیم …
ہمیں طلبا کو پرائمری سطح سے ہی مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تعلیم دینا ہوگی، قائمقام گورنر پنجاب

مزید خبریں
لاہور۔15جنوری (اے پی پی):قائمقام گورنر پنجاب ملک محمد احمد خان کہا ہے کہ آنے والا دور مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا ہے، اس لیے ہمیں 2025 سے 2030کے درمیان اپنے پرائمری سکولوں سے ہی اے آئی اور ڈیجیٹل تعلیم کا آغاز کرنا ہوگا۔ وہ پنجاب یونیورسٹی الرازی ہال میں ہنرمند پنجاب سکالرشپ کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی اپنے خیالات کا اظہار کررہے تھے۔ اس موقع پر وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات، وی سی پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی،فیکلٹی ممبران اورطلباطالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قائمقام گورنر پنجاب نے کہا کہ کسی بھی شعبے میں امتیازی کامیابی اللہ تعالی کا عطا کردہ ثمر ہوتی ہے اور موجودہ پنجاب حکومت وزیر اعلی مریم نواز کی قیادت میں اس خطے کی واحد حکومت ہے جس نے اپنے تعلیمی بجٹ کو تین گنا بڑھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہنرمند پنجاب اور ای روزگار جیسے پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہیں اور ہماری نوجوان نسل کو جدید تقاضوں کے مطابق ہنرمند بنانا ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل اسکلز میسر نہ ہونے کے باعث میری نسل ایک بحرانی دور سے گزری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 60ہزار سرکاری سکول موجود ہیں اور اگر اس سطح پر انقلابی فیصلے کوئی کر سکتا ہے تو وہ وزیر اعلی مریم نواز ہیں۔ انہوں نے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے اخراجات کا تقابل کرتے ہوئے کہا کہ نجی سکولوں میں ایک بچے پر ماہانہ بھاری اخراجات آتے ہیں جبکہ سرکاری سکولوں میں سالانہ بہت کم رقم خرچ کی جاتی ہے، اس لیے ہمیں سرکاری سکولوں میں پڑھنے والے بچوں پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔وزیر تعلیم پنجاب نے کہا کہ حکومت پنجاب نوجوانوں کی تعلیم اور فلاح کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کے بالمقابل پھولوں کی مارکیٹ میں دکانوں کی نیلامی سے حکومتی آمدن میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ گوگل کے اشتراک سے ہزاروں طلبہ کو مفید ڈیجیٹل کورسز کروائے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دو برسوں میں پانچ لاکھ بچوں کو ڈیجیٹل اسکلز فراہم کی جائیں گی، ایک ملین ڈیجیٹل کورسز کروائے جائیں گے اور صوبے بھر کے ہائی سکولوں میں چار ہزار اے آئی لیبز قائم کی جا رہی ہیں۔
وی سی نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کی فلاح اور تعلیم کیلئے سنجیدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل پنجاب اور سائبر سکیورٹی کے شعبے میں پنجاب یونیورسٹی ایک بڑا پارٹنر ہے۔انہوں نے کہا کہ دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں طلبہ پنجاب یونیورسٹی میں مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ تقریب کے اختتام پر قرعہ اندازی کے ذریعے طالبہ نمرہ چوہدری کو ای بائیک دی گئی۔ پنجاب یونیورسٹی اور ہنرمند پنجاب کے درمیان معاہدہ طے پاگیا۔








