اسلام آباد ۔ 10 اپریل (اے پی پی) معروف سائنسدان اور پاکستان سائنس اینڈ ٹاسک فورس کے چیئر مین ڈاکٹر عطاالرحمٰن نے کہا ہے کہ ملک میںکورونا وائرس کی ٹیسٹنگ سہولت کو فوری طور پر بڑھا نا ہوگا تاکہ متاثرہ افراد کو صحت مند مریضوں سے الگ تھلگ کرکے قرنطینہ میں رکھا جائے۔ جمعہ کو نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وائرس میں 9میوٹیشن …
ہمیں لازمی طور پر ٹیسٹنگ سہولیات میں اضافہ کرنا ہوگا، متاثرہ افراد کو صحت مند مریضوں سے الگ تھلگ کرکے قرنطینہ میں رکھا جائے ،معروف سائنسدان اورسائنس اینڈ ٹاسک فورس کے چیئر مین ڈاکٹر عطاالرحمٰن کی نجی ٹی وی سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 10 اپریل (اے پی پی) معروف سائنسدان اور پاکستان سائنس اینڈ ٹاسک فورس کے چیئر مین ڈاکٹر عطاالرحمٰن نے کہا ہے کہ ملک میںکورونا وائرس کی ٹیسٹنگ سہولت کو فوری طور پر بڑھا نا ہوگا تاکہ متاثرہ افراد کو صحت مند مریضوں سے الگ تھلگ کرکے قرنطینہ میں رکھا جائے۔ جمعہ کو نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وائرس میں 9میوٹیشن کا مشاہدہ ہوا ہے جو باہر سے اس خطہ میں داخل ہوا جس سے بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے .۔انہوں نے کہا کہ امریکہ اوریورپی ممالک کی نسبت پاکستان میں وائرس کی شدت اور شرح اموات بہت کم ہے ۔انہوں نے کہاکہ کراچی یونیورسٹی میں وائرس کی ٹیسٹنگ کے لئے ایک لیبارٹری جلد کام کرنا شروع کر دے گی ،چین اورجرمنی کے سائنسدان اور ماہرین اس پراجیکٹ کے لئے تعاون کررہے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کراچی انڈس ہسپتال میں پولی چین ری ایکشن مشینوں کی فراہمی کے بعد ٹیسٹنگ سہولت یومیہ آٹھ سو سے بڑھا کر 2500کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ تاریخ میں ایم ای آر ایس اور ایس اے آر ایس کے بعد کورونا تیسرا مہلک وائرس ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں لازمی طور پر ٹیسٹنگ سہولیات میں اضافہ کرنا چاہیے تاکہ متاثرہ افراد کو صحت مند مریضوں سے الگ تھلگ کرکے قرنطینہ میں رکھا جائے ۔ٹیسٹنگ کی تعداد یومیہ ایک لاکھ کی جانی چاہئے۔دریں اثناء یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا ہے کہ حکومت کو لاک ڈاﺅن میں توسیع کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی فاصلہ اور دیگر احتیاطی اقدامات شہریوں کی صحت کے لئے مفید ہیں ۔








