اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسگی (فوسپا) فوزیہ وقار نے ملک بھر میں 16 روزہ آگاہی مہم ’’ہم بدلیں گے سوچ‘‘کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔ اس مہم کا مقصد ان سماجی رویوں اور سوچ کو تبدیل کرنا ہے جو ملازمت کی جگہوں پر ہراسگی، صنفی تعصب اور عدم مساوات کو فروغ دیتے ہیں۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فوزیہ وقار نے کہا کہ صرف …
’’ہم بدلیں گے سوچ‘‘ مہم کا مقصد ملازمت کی جگہوں پر ہراسگی، صنفی تعصب اور عدم مساوات کو فروغ دینے والے سماجی رویوں اور سوچ کو تبدیل کرنا ہے ، فوزیہ وقار

مزید خبریں
اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسگی (فوسپا) فوزیہ وقار نے ملک بھر میں 16 روزہ آگاہی مہم ’’ہم بدلیں گے سوچ‘‘کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔ اس مہم کا مقصد ان سماجی رویوں اور سوچ کو تبدیل کرنا ہے جو ملازمت کی جگہوں پر ہراسگی، صنفی تعصب اور عدم مساوات کو فروغ دیتے ہیں۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فوزیہ وقار نے کہا کہ صرف قوانین اور پالیسیوں سے تبدیلی نہیں آتی بلکہ اصل تبدیلی سماجی سوچ اور اداروں کے ماحول میں اصلاح سے ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ اصل تبدیلی صرف قانون سے نہیں، سوچ سے آتی ہے۔ خواتین کے حقوق اور برابری کو ہم کیسے دیکھتے ہیں یہی بنیادی مسئلہ ہے۔ ہراسگی کے خلاف زیرو ٹالرنس ہر شہری اور ادارے کی ذمہ داری ہے۔فوزیہ وقار کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کام کی جگہوں پر ہراسگی کا مسئلہ صرف قانون سازی کی کمی نہیں بلکہ اس سوچ کا نتیجہ ہے جو متاثرین کو خاموش کرتی ہے اور مرتکب افراد کو بچنے کا راستہ دیتی ہے۔
عالمی گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس 2025 کے مطابق پاکستان 148 ممالک میں سب سے آخری نمبر پر ہے، خصوصاً معاشی شرکت اور سیاسی نمائندگی میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں خواتین کے حقوق سے متعلق قوانین کا تقریباً 77.8 فیصد حصہ موجود ہے لیکن موثر نتائج کے لیے سماجی رویوں میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ یہی مقصد سامنے رکھ کر فوسپا نے ’’ہم بدلیں گے سوچ‘‘ مہم شروع کی ہے تاکہ آگاہی کے ساتھ ساتھ حقیقی سماجی تبدیلی لائی جا سکے۔
فوزیہ وقار نے بتایا کہ مارچ 2023 سے اب تک فوسپا کو 3,130 ہراسگی کی شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 2,736 کیسز نمٹا دیئے گئے جبکہ صرف 292 کیسز زیر سماعت ہیں۔سال 2025 میں ملک بھر میں 500 سے زائد تربیتی پروگرام اور آگاہی سیشن منعقد کیے گئے۔اس کے علاوہ 2020ء سے اب تک جائیداد کے حقوق سے متعلق 1,177 شکایات بھی موصول ہوئیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام کا فوسپا پر اعتماد مسلسل بڑھ رہا ہے۔
’’ہم بدلیں گے سوچ‘‘ مہم کے تحت نوجوانوں کے لیے آرٹ نمائشیں ،یونیورسٹی و ادارہ جاتی مکالمے اور کمیونٹی سرگرمیاں میڈیا کے ساتھ شراکت داری میں منعقد کی جائیں گی تاکہ ہراسگی کے خلاف زیرو ٹالرنس کا پیغام معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچ سکے۔آخر میں فوزیہ وقار نے کہا کہ ہم بدلیں گے سوچ صرف ایک نعرہ نہیں، یہ اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ہم سب کو مل کر ہراسگی کے خلاف کھڑا ہونا ہے، خاموشی توڑنی ہے اور ایسے محفوظ اور باعزت دفاتر بنانے ہیں جہاں سب کا تحفظ یقینی ہو، کسی کے لیے کوئی استثناء نہیں۔








