ہندوستان کے ساتھ ہونیوالی چپقلش میںہم نے دنیا کو بہترین حکمت عملی سے امن کا پیغام دے کر اخلاقی فتح حاصل کی، صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی

لاہور۔26 اپریل(اے پی پی ) صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ملکی استحکام کےلئے معیشت کا مضبوط ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے،پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے ،چند مہینوں اور چند سالوں میں معاشی بحالی بہت ضروری ہے جس کے بعد پاکستان بہت جلد دنیا کے نقشے پر ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر سامنے آئے گا، ہندوستان کے ساتھ ہونیوالی چپقلش میں پوری قوم،میڈیااور افواج …

لاہور۔26 اپریل(اے پی پی ) صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ملکی استحکام کےلئے معیشت کا مضبوط ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے،پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے ،چند مہینوں اور چند سالوں میں معاشی بحالی بہت ضروری ہے جس کے بعد پاکستان بہت جلد دنیا کے نقشے پر ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر سامنے آئے گا، ہندوستان کے ساتھ ہونیوالی چپقلش میں پوری قوم،میڈیااور افواج پاکستان امن چاہتی تھیں ،ہم نے بہترین حکمت عملی سے جواب بھی دیا اور دنیا کو امن کا پیغام دے کر اخلاقی فتح بھی حاصل کی، اوراس سے دنیابھر میں پاکستان کی قدروقیمت میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا جبکہ ہندوستان کو ہر محاذ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے گزشتہ روزیہاں نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیر اہتمام 27ویں سالانہ تقریب عطائے گولڈ میڈل برائے کارکنان تحریک پاکستان سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں سینیٹر ولید اقبال ،چیئر مین تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ میاںمحبوب احمد،شوکت ترین،سابق چیف جسٹس خلیل الرحمان،بیگم مجیدہ وائیں،ممتاز صنعتکار افتخار احمد ملک سمیت ملک بھر سے کارکنان تحریک پاکستان نے شرکت کی۔تقریب میں رشیدہ بی بی،میاں اختر،شیخ جمیل،زکریا ساجد،آغا عبدالحفیظ،امیر حسن صدیقی،میاں بخش قادری سمیت متعدد کارکنان کو تحریک پاکستان میں نمایاں کردار ادا کرنے پر گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ یہ بات میرے لیے باعث عزت ہے کہ میں نے تحریک پاکستان کے کارکنوں اور ان کی اولادوںکو ان کی گرانقدر خدمات کے اعتراف میں گولڈ میڈل عطا کیا۔ میں عام طور پر گولڈ میڈل لینے والوںکو مبارکباد پیش کرتا ہوں مگرمیں ان لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کیونکہ ان کی بدولت ہی پاکستان حاصل ہوا۔ انہوں نے کہا میں نے جس گھر میں پرورش فرمائی وہاں ہر طرف تحریک پاکستان کی ہی باتیں ہوتی تھیں۔ میرے والد صاحب یو پی مسلم لیگ کے صدر اور بہت متحرک کارکن تھے۔انہوں نے تحریک پاکستان میں بھرپور کام کیا۔ میں نے اپنا سارا بچپن والد صاحب کے ان دوستوں کو دیکھا جنہوں نے تحریک میں کام کیا تھا۔ چودھری خلیق الزمان، حسین امام، زیڈ ایچ سلہری اور دیگر لوگوں کی روزانہ بیٹھک ہوتی تھی ۔ تقسیم ہند کے وقت قائداعظمؒ نے نواب اسماعیل کو ہندوستان میں ہی رہنے کا کہا تاکہ وہاں موجود مسلمانوں سے رابطہ میں رہیں۔ تقسیم کے وقت حالات بگڑے تو ہجرت ہوئی اور میری خالہ ،ماموں اور کئی رشتہ دار بھارت میں ہی رہ گئے۔ اس وقت مسلمانوں نے بڑی قربانیاں دیں، وہاں کے مسلمان ہم سے گلہ کرتے تھے کہ تم نے ہماری فکر نہیں کی ۔صدر پاکستان نے کہاکہ بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کی فکر اور ان کے حقوق کے تحفظ کیلئے ہمیں ملکی معیشت کو مضبوط کرنا ہو گا۔ بھارتی مسلمانوں کو آج بھی طعنہ دیا جاتا ہے کہ تم پاکستان چلے جاﺅ۔ اس لیے میرے نزدیک مسلمانان ہند کا غم بھی ہمارا غم ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جمہوریت اور ووٹ کے ذریعے قائم ہوا اور پاکستانی جمہوری قوم ہیں۔ قائداعظمؒ کی جہد مسلسل اور قوت ارادی سے پاکستان معرض وجود میں آیا۔ سرسید احمد خان نے مسلمانان ہند کو جدید علوم کی طرف راغب کیا جبکہ کلام اقبالؒ کے بغیر ہم تحریک پاکستان کو سمجھ نہیں سکتے ہیں۔ قومیں اپنے ہیروز سے ہی بنتی ہیں ۔انہوںنے کہا کہ ہماری نئی نسل کو اندازہ نہیں کہ اس ملک کیلئے جان ومال کی کتنی قربانیاں دی گئیں ، لاکھوں لوگ شہید ہوئے،لاکھوں خاندان اجڑ گئے، خاندانوں کی محبتیں قربان ہو گئیں۔یہ سب کچھ پاکستان کی خاطر کیا گیا۔ پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے اور ہماری قوم بہت باصلاحیت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی اور انتہاپسندی کیخلاف ہماری قوم نے 70ہزار جانوں کی قربانیاں دیں، آج دنیا لسانی تعصبات سے کھیل رہی ہے جو خطرناک ہے ، اگر ایسا کھیل بھارت میں کھیلا گیا تو مسلمانوں کا کیا حال ہوگا؟۔ گزشتہ دنوں پاک بھارت کشیدگی کے دوران ہماری طرف امن جبکہ بھارت کی طرف وار ہسٹریا دکھائی دیا۔یہ بات ثابت کرتی ہے کہ ہماری قوم بھارتی قوم سے بہت مختلف ہے۔ ہم نے مسلسل امن کا پیغام دیا اوردنیا پر ثابت کیا کہ ہم ایک طاقتور مگر پر امن قوم ہیں۔ انہوں نے کہا ہمیں تحریک پاکستان کے کارکنوں کی قدر کرنی چاہئے اور تحریک پاکستان کے مختلف پہلوﺅں کے بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ تحریک پاکستان کے جو کارکن حیات ہیں ، وہ اپنی یادداشتیں قلمبند کروائیں۔ اس ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کر نے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ قائداعظم جانتے تھے کے پاکستان کے مسلمان انکی آواز بنیں گے، بطور پاکستانی ہمارا مشن بانی¿ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کے وژن کے عےن مطابق وطن عزےز کو اےک جدےد اسلامی‘ فلاحی اور جمہوری مملکت کے قالب مےں ڈھالنا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ان رہنماﺅں اور کارکنوں کو خراج عقےدت پےش کرنا ہے جنہوںنے تحرےک پاکستان کے دوران مثالی خدمات انجام دےں، ہم اپنے مشاہےر کے کارناموں کو نسل نو تک پہنچانے اور نظرےہ¿ پاکستان کی روشنی مےں ان کی ذہن سازی کےلئے سارا سال سرگرم عمل رہتے ہےں۔انہوںنے کہا کہ قائد اعظم کی قیادت میں تحریک پاکستان کے کارکنان نے وہ تاریخ رقم کی جس کی دینابھر میں کوئی مثال نہیں ملتی،آزادی کےلئے ہر طرح کی قیمت چکائی،لاکھوں گھر اجڑے،لاکھوں جانیں قربان ہوئیں جس کے بعد جاکر یہ خوبصورت ملک بنا۔انہوں نے کہا کہ مملکت خدادادبننے کے بعد ہمیں مختلف مسائل اور ایشوز کا سامنا کرنا پڑا جس میں سب سے بڑا ایشو دہشتگرد ی کا تھاجس کےلئے ا فواج پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دیں،70ہزار جوان شہید ہوئے جس کے بعد جا کر ملک میں امن قائم ہوا،اسی طرح لسانی اعتبار سے کراچی کو بھی تقسیم کرنے کی کوششیںہوئیں ،اس کے امن کو سبوتاژ کیا گیا لیکن وہاں امن لانے کےلئے بھی 20سال لگے،اب وہی کراچی روشنی کا ابھرتا شہر ہے۔ تحریک پاکستان سمیت دیگر تاریخی نوادرات کو محفوظ بنانے کےلئے وفاقی سطح پر ایک نیشنل آرکائیو بنایا گیا ہے جس میں پاکستان بننے سے پہلے اور بعدکی مکمل تاریخ اور دستاویزات رکھی جائیںگی اور وہاں تمام قلمی نسخے بھی دسیتاب ہونگے ،ہم اسکو ڈیجٹیلائزڈ بھی کررہے ہیں اس سے لوگوں کی دلچسپی بھی بڑھے گی ،تحقیق میں معاونت کی ساتھ ساتھ تاریخ بھی محفوظ ہوگی۔انہوںنے کہا کہ تحریک پاکستان میںقربانیاں دینے والے، ہمارے لیے وہ روشن ستارے ہیں، جنہوںنے اپنی جانوں کا نذرانہ دیکر یہ ملک بنایا۔صدرپاکستان نے کہا کہ میں ان خاندانوں میں سے ہوں جن کے رشتہ دار بھارت میں موجود ہیں، میری خالہ کہتی تھیں کہ پاکستان غلط بنا مگر میں انکی مخالفت کرتا تھا،میں ہندوستان سے آئے اپنے رشتہ داروں کو فخر سے یہاں ملواتا ہوں، ہندوستان میں مسلمانوں کو طنز کر کے کہا جاتا ہے کہ تم پاکستان جاﺅ۔انہوںنے کہا کہ میرے والد صاحب زندگی میںدوبار روئے ایک بار والدہ کے انتقال پراور دوسری بار مشرقی پاکستان کے بٹوارے پر روئے، پاکستان بہت مشکلوں سے بنا، اس کے قیام میں لوگوں کا درد شامل ہے، والد کی تحریک پاکستان کے رہنماو¿ں سے ہمیشہ ملاقات رہی ہے۔تقریب کے اختتا م پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو انکے بزرگوں کی تحریک پاکستان میں بے خدمات پر گولڈ میڈل سے بھی نوازاگیا۔

Leave a Reply