یورپی یونین نے روس کے خلاف پابندیوں کے 21ویں پیکج کی تجویز پیش کر دی

یورپی کمیشن نے روس کے خلاف پابندیوں کے 21ویں پیکج کی تجویز پیش کر دی ہے، جس میں توانائی، مالیاتی خدمات، کرپٹو کرنسی، تجارت اور پہلی مرتبہ ماہی گیری کے شعبے کو بھی ہدف بنایا گیا ہے

برسلز۔10جون (اے پی پی):یورپی کمیشن نے روس کے خلاف پابندیوں کے 21ویں پیکج کی تجویز پیش کر دی ہے، جس میں توانائی، مالیاتی خدمات، کرپٹو کرنسی، تجارت اور پہلی مرتبہ ماہی گیری کے شعبے کو بھی ہدف بنایا گیا ہے۔شنہوا کے مطابق یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لیین نے اعلان کیا کہ نئی پابندیوں کا مقصد روسی معیشت پر دباؤ برقرار رکھنا اور یوکرین تنازع کے تناظر میں روس کی آمدنی کے ذرائع کو محدود کرنا ہے۔مجوزہ پیکج کے تحت روسی تیل کی قیمت پر عائد حد (پرائس کیپ) کے خودکار ایڈجسٹمنٹ نظام کو آئندہ جنوری تک معطل کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ عالمی تیل منڈیوں میں استحکام برقرار رہے۔یورپی یونین مزید 30 روسی جہازوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنا چاہتی ہے، جس کے بعد پابندیوں کا شکار جہازوں کی تعداد 662 ہو جائے گی۔ پہلی بار ایسے جہازوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا جو روسی "شیڈو فلیٹ” کو معاون خدمات فراہم کرتے ہیں۔اس کے علاوہ روسی تیل کی تجارت یا پراسیسنگ میں ملوث بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور ریفائنریوں پر بھی نئی پابندیاں عائد کی جائیں گی، جبکہ روس کو ایل این جی ٹینکرز کی فروخت محدود کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔مالیاتی شعبے میں 31 مزید روسی بینکوں پر لین دین کی پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ تیسرے ممالک میں قائم 20 بینکوں، کرپٹو کمپنیوں، پلیٹ فارمز اور تیل کے تاجروں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔تجارتی پابندیوں کے تحت روسی فوجی و صنعتی شعبے میں استعمال ہونے والی اشیا، ٹیکنالوجی اور ڈرون سے متعلق سازوسامان کی برآمدات پر مزید پابندیاں لگائی جائیں گی۔یورپی کمیشن نے تقریباً 6 کروڑ یورو مالیت کی بعض دھاتوں اور آٹو پارٹس سمیت مختلف مصنوعات کی درآمد پر پابندی کی بھی تجویز دی ہے تاکہ روسی درآمدات پر انحصار کم کیا جا سکے۔پہلی مرتبہ روس کے ماہی گیری کے شعبے کو بھی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تجویز کے مطابق بعض مچھلیوں کی درآمد پر سخت پابندیاں جبکہ بعض اقسام، بشمول کاڈ مچھلی، کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔ارسولا فان ڈیر لیین نے یہ بھی اعلان کیا کہ یوکرین تنازع کے آغاز کے بعد روسی مسلح افواج میں خدمات انجام دینے والے افراد کے یورپی یونین میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کی تجویز بھی اس پیکج کا حصہ ہے۔تاہم یہ تمام اقدامات نافذ ہونے سے قبل یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کی متفقہ منظوری کے محتاج ہوں گے۔