یورپی یونین کا 2030 تک 15 ملین افراد کو غربت اور سماجی محرومی کے خطرے سے نکالنے کا منصوبہ
یورپی یونین کا 2030 تک 15 ملین افراد کو غربت اور سماجی محرومی کے خطرے سے نکالنے کا منصوبہ

مزید خبریں
برسلز۔17اکتوبر (اے پی پی):یورپی کمیشن کی ایگزیکٹو نائب صدر برائے سماجی حقوق و مہارت، معیاری روزگار اور تیاری روکسانا منزاتو نے کہا ہے کہ یورپ بھر میں اب بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو گھر، حرارت، خوراک، صحت کی سہولیات یا تعلیم کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔
اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق انہوں نے 17 اکتوبر کو غربت کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ اس وقت یورپ میں ہر پانچ میں سے ایک شخص کو غربت اور سماجی محرومی کا خطرہ ہے، جن میں 19.3 ملین بچے بھی شامل ہیں، جبکہ 1.4 ملین سے زائد افراد بے گھر ہیں یا انہیں محفوظ رہائش میسر نہیں۔ 2026 کے عالمی دن کا موضوع ’’سب کے لیے محفوظ گھر‘‘ ہے، جس میں تحفظ، وقار اور معاشرے میں فعال شرکت کے لیے مناسب رہائش کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔روکسانا منزاتو نے کہا کہ یہ صورت حال ناقابل قبول ہے اور غربت و محرومی کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
رواں سال کے آغاز میں یورپی یونین نے غربت کے خاتمے کے لیے اپنی پہلی حکمت عملی منظور کی، جس کا مقصد یورپی ستون برائے سماجی حقوق کے ایکشن پلان میں طے شدہ ہدف کے حصول کی رفتار تیز کرنا ہے۔
اس ہدف کے تحت 2030 تک غربت اور سماجی محرومی کے خطرے سے دوچار افراد کی تعداد میں 15 ملین کمی لانا اور 2050 تک غربت کا خاتمہ کرنے میں مدد دینا شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یورپی کونسل کی جانب سے جلد ہی رہائشی محرومی سے نمٹنے کے لیے یورپی کمیشن کی سفارش کی تجویز کی منظوری متوقع ہے۔ یہ بے گھری سے متعلق یورپی یونین کا پہلا قانونی اقدام ہوگا اور غربت کی شدید ترین صورتوں میں سے ایک کا سامنا کرنے والے افراد کی مدد کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔







