یورپ میں جنگلات کی آگ کی نئی لہر، ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور

یورپ کے جنوبی حصوں میں جنگلات کی آگ کی نئی لہر کے باعث ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوگئے نیز حکام نے ٹور ڈی فرانس کے ایک مرحلے میں تماشائیوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی کیونکہ آگ اس علاقے کے قریب پہنچ گئی تھی۔

پیرس۔7جولائی (اے پی پی):یورپ کے جنوبی حصوں میں جنگلات کی آگ کی نئی لہر کے باعث ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوگئے نیز حکام نے ٹور ڈی فرانس کے ایک مرحلے میں تماشائیوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی کیونکہ آگ اس علاقے کے قریب پہنچ گئی تھی۔ اے ایف پی کے مطابق سیکڑوں فائر فائٹرز جنگلات میں لگی آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں، جنہوں نے 20 ہزار ہیکٹر (تقریباً 50 ہزار ایکڑ) سے زائد رقبہ جلا کر راکھ کر دیا ہے۔ یہ آگ پرتگال، سپین، فرانس، یونان اور دیگر یورپی ممالک میں پھیلی ہوئی ہے۔ درجہ حرارت میں دوبارہ اضافے کے باعث آگ مزید شدت اختیار کر رہی ہے۔ سپین میں درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے جبکہ یورپ مئی اور جون کی شدید گرمی کی لہروں کے اثرات سے ابھی تک سنبھل نہیں پایا جس کے باعث ہزاروں اموات ہو چکی ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق انسانوں کی جانب سے فوسل فیول (تیل، گیس اور کوئلہ) جلانے کے نتیجے میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلی شدید گرمی کی لہروں اور دیگر انتہائی موسمی واقعات کے خطرات اور شدت میں اضافہ کر رہی ہے۔ حکام نے بتایا ہے کہ فرانس کے جنوب مغربی شہر پرپینیان کے قریب تقریباً 10,500 افراد کو اپنے گھر خالی کرنے کا حکم دیا گیا، جہاں فائر فائٹرز پیرینیز کے علاقے میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس آگ سے اب تک 4,600 ہیکٹر سے زائد رقبہ جل گیا ہے۔ آگ گھروں سے صرف 300 میٹر کے فاصلے تک پہنچ گئی تھی اور اتنی تیزی سے پھیلی کہ صورتحال انتہائی خوفناک تھی اور لوگ شدید خوف و ہراس کا شکار ہو گئے تھے۔