عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے کہا ہے کہ یورپ میں صرف چار سال کے دوران گرمی سے 2 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق ڈبلیو ایچ او سے جاری رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے
یورپ میں صرف چار سال کے دوران گرمی سے 2 لاکھ افراد ہلاک ہوئے، ڈبلیو ایچ او

مزید خبریں
جنیوا۔12جون (اے پی پی):عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے کہا ہے کہ یورپ میں صرف چار سال کے دوران گرمی سے 2 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق ڈبلیو ایچ او سے جاری رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہیٹ ویوز تیزی سے بڑھتی ہوئی اور جان لیوا صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال بنتی جا رہی ہیں۔ڈبلیو ایچ او کے یورپی ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر ہنس کلوگے نے برلن میں ’’ہیٹ–ہیلتھ ایکشن پلانز‘‘کی تازہ ترین گائیڈ لائنز کے اجرا کے موقع پر کہا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مربوط، موثر اور ادارہ جاتی ردعمل کی ضرورت ہے۔نئی گائیڈ لائنز میں شواہد پر مبنی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں جن کے ذریعے حکومتیں گرمی سے ہونے والی بیماریوں اور اموات میں کمی لا سکتی ہیں۔
ان اقدامات میں قبل از وقت وارننگ سسٹمز، ٹھنڈک کے مراکز، شہری علاقوں میں درخت لگانے اور کمزور طبقات کے لیے خصوصی سہولیات شامل ہیں۔ڈبلیو ایچ او نے زور دیا کہ اگرچہ افراد کی سطح پر اقدامات جیسے زیادہ پانی پینا اور براہ راست دھوپ سے بچنا ضروری ہے، تاہم یہ کافی نہیں کیونکہ یہ بڑھتا ہوا نظامی مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہیٹ ہیلتھ ایکشن پلانز کا مقصد شہروں اور ممالک کو شدید گرمی کے دوران بروقت تیاری، پیشگی اقدامات اور موثر ردعمل کے قابل بنانا ہے،یورپ دیگر براعظموں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے، جس سے بزرگ افراد، پہلے سے بیمار افراد اور دیگر حساس طبقات زیادہ خطرے میں ہیں۔ڈاکٹر ہنس کلوگے نے کہا کہ ہیٹ سے ہونے والی اموات کے خاتمے کے حوالے سےہمارا ہدف واضح اور عزم مضبوط ہے۔








