یوری گاگرین کے کارنامے نے خلائی تحقیق کے نئے دور کا آغاز کیا، روسی سفیر

یوری گاگرین کے کارنامے نے خلائی تحقیق کے نئے دور کا آغاز کیا، روسی سفیر

اسلام آباد۔12اپریل (اے پی پی):روس کے سفیرالبرٹ پی خوریف نے کہا ہے کہ یوری گاگرین کی تاریخی خلائی پرواز نے انسانی تاریخ میں نئے دور کا آغاز کیا جو سائنسی ترقی اور تکنیکی مہارت کے لیے بنی نوع انسان کی جستجو کی علامت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پہلی انسانی خلائی پرواز کی 65 ویں سالگرہ کے موقع پر فاطمہ جناح پارک میں یوری گاگرین کی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سفیر البرٹ پی خوریف نے 12 اپریل 1961 کو انسانی تاریخ کا اہم لمحہ قرار دیا جب یوری گاگرین نے خلائی تحقیق کے نئے دور کا آغاز کرتے ہوئے ووسٹوک-1 پر زمین کے گرد پہلا چکر مکمل کیا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی کامیابی تکنیکی مہارت اور اہداف کے حصول کے لیے انسانیت کے عزم کی علامت ہے۔ سفیر نے سابق سوویت یونین کے لاکھوں افراد کی اجتماعی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا جن کے تعاون سے مشن کو ممکن بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ سنگ میل دنیا بھر کی نسلوں کو متاثر کرتا رہے گا۔انہوں نے یاد دلایا کہ خلائی تحقیق میں سوویت یونین کی کامیابیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے 2011 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں روس کی طرف سے پیش کی گئی ایک قرارداد کو منظور کیا گیا جس میں 12 اپریل کو انسانی خلائی پرواز کے عالمی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا ۔ اس قرارداد کے حق میں دنیا بھر کے 60 سے زائد ممالک نے ووٹ دیا ۔انہوں نے کہا کہ چھ ماہ قبل نومبر 2025 میں روس پاکستان بین الحکومتی کمیشن برائے تجارت، اقتصادی، سائنسی اور تکنیکی تعاون کے 10ویں اجلاس کے دوران اس کے شریک چیئرز، روس کے وزیر توانائی سرگئی تسویلوف اور وفاقی وزیر برائے توانائی (پاور ڈویژن)سردار اویس احمد خان لغاری نے یادگار کا افتتاح کیا ۔

انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان میں کسی روسی شخصیت کی پہلی یادگار ہے۔ سفیر نے کہا کہ گاگرین کے مجسمے کی تنصیب دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے حوالے سے اہم قدم ہے جو دونوں ممالک کی مشترکہ ثقافتی اقدار کی عکاسی کرتا ہے۔ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ عائشہ علی نے کہا کہ گاگرین کا تاریخی سفر انسانیت کی لامحدود امنگوں کی علامت ہے جو سرحدپار کئی نسلوں کے لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے خلا کے پرامن استعمال کو فروغ دینے اور روس کے ساتھ توانائی، تعلیم اور ثقافتی تبادلوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی یادگاریں نہ صرف تاریخی سنگ میل کا اعزاز رکھتی ہیں بلکہ اقوام کے درمیان باہمی احترام اور دوستی کو بھی مضبوط کرتی ہیں۔

مستقبل کے لیے ایک اجتماعی وژن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ خلائی ریسرچ ایک مشترکہ انسانی کوشش ہے جس کے لیے تعاون اور جدت کی ضرورت ہے۔تقریب میں سفارتی نمائندگان اور ترکمانستان کے سفیر عطادجان مولاموف ، بیلاروس کے سفیر آندرے این میٹے لٹسا، قازقستان کے سفیر یرژان کستافن ، کرغزستان کے سفیر کیلیچ بیک سلطان، تاجکستان کے سفیر شریف زادہ یوسف توئیر اور ازبکستان کے سفیر
کے علاوہ سی ڈی اے اور سپارکو کے نمائندوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر شرکا نے یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی ، سائنس اور خلائی تحقیق میں بین الاقوامی تعاون کو آگے بڑھانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔