لاہور۔4 مئی(اے پی پی )وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت' ٹیکسٹائل' پیداوار و سرمایہ کاری عبدالرزاق دائود نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان کے در میان آزاد تجارتی معاہدہ ایک سنہری موقع ہے جس سے بھرپور استفادہ کرنے کی ضرورت ہے،برآمدات میں اضافہ صنعتی ترقی کیلئے ناگزیر ہے،ہماری صنعتیں بہتری کی طرف گامزن ہیں جبکہ ہمیں اپنی مصنوعات کی رینج بڑھانے کی ضرورت ہے، ایک مربوط صنعتی پالیسی کی …
،وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق دائود کا ایکسپو سنٹر میں سیمینار سے خطاب

مزید خبریں
لاہور۔4 مئی(اے پی پی )وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت’ ٹیکسٹائل’ پیداوار و سرمایہ کاری عبدالرزاق دائود نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان کے در میان آزاد تجارتی معاہدہ ایک سنہری موقع ہے جس سے بھرپور استفادہ کرنے کی ضرورت ہے،برآمدات میں اضافہ صنعتی ترقی کیلئے ناگزیر ہے،ہماری صنعتیں بہتری کی طرف گامزن ہیں جبکہ ہمیں اپنی مصنوعات کی رینج بڑھانے کی ضرورت ہے، ایک مربوط صنعتی پالیسی کی تشکیل پراسس میں ہے جس کے ذریعے پاکستانی مصنوعات عالمی منڈیوں میں اپنی جگہ بنا سکتی ہیں۔وہ ہفتہ کے روز ایکسپو سنٹر میں وزارت صنعت و تجارت اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی پاکستان(ٹڈیپ)کے زیر اہتمام پاک’ چین آزاد تجارتی معاہدہ اور تجارتی مواقعوں کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے،اس موقع پر وفاقی سیکرٹری کامرس سردار احمد نواز سکھیرا سمیت صنعتکاروں اورمختلف چیمبرز آف کامرس ودیگر تجارتی تنظیموں کے نمائندے بھی موجود تھے،عبد الرزاق دائود نے کہا کہ وہ جولائی میں جاپان کا دورہ کرینگے جہاں وہ پاکستانی مصنوعات کی جاپانی منڈیوں تک رسائی کے حوالے سے بات چیت کرینگے جبکہ کوریا کی منڈیوں تک رسائی کیلئے بھی کوششیں کی جائینگی،انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا نے 20ٹیرف لائنز دی ہیں جو کہ ڈیوٹی فری ہیں جبکہ ایف ٹی اے کے تحت محفوظ اقدامات کی سہولت بھی دستیاب ہے جو کہ کسی بھی ممکنہ خطرات سے صنعتوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے، ملکی معیشت کو درست سمت پر لانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں’ برآمدات اور درآمدات کا فرق کم کیا جا رہا ہے’مہنگائی صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں یہ عالمی سطح پر بڑھ رہی ہے ،مہنگائی کو روکنے کے لیے تمام اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا، پاک چین آزادنہ تجارت کے نئے معاہدے کے تحت ہمیں آسیان ممالک کے برابر رسائی مل گئی ہے، پچھلے 5 سالوں میں ملک میں صنعتیں بند ہوئیں، گزشتہ حکومتوں نے عوام کو حقائق نہیں بتائے۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کا ویژن عوام کیلئے آسانیاں پیدا کرنا ہے تاہم تھوڑا سا وقت لگے گا،حکومت ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھائے گی جس سے عوام کو فائدہ نہ پہنچے ،گزشتہ پانچ سالوں میں ملک میں صنعتیں بند ہوئیں،برآمدات میں کمی ہوئی اور معیشت کو نقصان ہوا ،ہم خام مال کی قیمت کو نیچے لانے کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں ، تیار مال پر ڈیوٹی کم نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی پالیسی پر کام ہو رہا ہے جس کا جلد اعلان کریں گے،عبدالرزاق دائود نے کہا کہ پاک چین آزادنہ تجارت کے نئے معاہدے کے تحت ہمیں آسیان ممالک کے برابر رسائی مل گئی ہے ،اگر کسی صنعت کو چینی برآمدات کے وجہ سے نقصان پہنچے گا تو ہم تدارکی اقدامات کر سکتے ہیں ،مشیر بننے کے بعد انہوں نے چین کی منڈی میں ڈیوٹی فری رسائی کے لیے 313مصنوعات کی لسٹ تیار کی جبکہ انڈونیشیا نے حال ہی میں 20سے زائدمصنوعات کی ڈیوٹی فری برآمد کی سہولت دی ہے ،تاجروں کو درپیش مسائل کے حوالے سے چیئرمین ایف بی آر سے جلد ملاقات کریں گے،اب ٹریکٹر پاکستان میں مکمل طور پر بن رہا ہے اورافریقی ممالک کو ٹریکٹر برآمد کررہے ہیں ،ایسی صنعتوں کو فروغ دے رہے ہیں جس سے روزگار میں اضافہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ جولائی میں جاپان اور کوریا کا بھی دورہ کروں گا،پچھلے 5 سالوں میں ملک میں صنعتیں بند ہوئیں، برآمدات میں کمی ہوئی مگرسابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اس کا نوٹس نہیں لیا،انہوں نے خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ نقصان میں چلنے والے اداروں کو فعال بنانا ہوگا، خسارے والے اداروں کی نجکاری کریں گے، بعدازاں تاجروں وصنعتکاروں نے اپنی اپنی تجاویز بھی دیں اور مسائل سے آگاہ کیا ۔








