16 سے 18 ستمبر وسطی پنجاب اور آزاد کشمیر میں مزید بارشوں کا امکان ہے، آئندہ مون سون کے پیش نظر ابھی سے تیاریاں شروع کرنا ہوں گی، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک اور چیئرمین این ڈی ایم اے کی مشترکہ بریفنگ

اسلام آباد۔11ستمبر (اے پی پی):وفاقی حکومت نے آئند 72 گھنٹے مون سون جاری رہنے کا عندیہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ 16 سے 18 ستمبر وسطی پنجاب اور آزاد کشمیر میں مزید بارشوں کا امکان ہے، پنجاب اور سندھ میں 25 لاکھ سے زائد لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے،بڑھتے درجہ حرارت کے باعث گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں جو مستقبل میں مزید خطرات پیدا …

اسلام آباد۔11ستمبر (اے پی پی):وفاقی حکومت نے آئند 72 گھنٹے مون سون جاری رہنے کا عندیہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ 16 سے 18 ستمبر وسطی پنجاب اور آزاد کشمیر میں مزید بارشوں کا امکان ہے، پنجاب اور سندھ میں 25 لاکھ سے زائد لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے،بڑھتے درجہ حرارت کے باعث گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں جو مستقبل میں مزید خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک اور چیئرمین این ڈی ایم اے جمعرات کو میڈیا کو مشترکہ بریفنگ دے رہے تھے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو اس تبدیلی سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے موسمیاتی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔

مصدق ملک نے کہا کہ آئندہ مون سون کے پیش نظر ابھی سے تیاریاں شروع کرنا ہوں گی اور اس سلسلے میں فلاحی ادارے اور نجی تنظیمیں بھی بڑھ چڑھ کر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ بارشوں سے سیالکوٹ اور نارووال میں شدید تباہی ہوئی ہے جبکہ سندھ میں سیلاب سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات کر لیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے ساتھ حکومت بھرپور تعاون کر رہی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سیلاب اور بارشوں کے نتیجے میں اب تک 900 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جو ایک قومی سانحہ ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام اداروں کو مل کر بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے کام کرنا ہوگا تاکہ آنے والے حالات کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے سیلابی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ دو سے تین روز تک مون سون بارشیں جاری رہیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ ہیڈ پنجند اور گڈو بیراج پر پانی کا بہائو تیز ہے جس کے باعث کئی علاقوں میں مال مویشی اور فصلیں شدید متاثر ہوئی ہیں تاہم ستلج، راوی اور چناب کے قریب صورت حال اس وقت کنٹرول میں ہے اور ملک بھر میں ریسکیو آپریشنز جاری ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے کہا کہ پنجاب میں 24 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے جبکہ سندھ میں بھی ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو محفوظ مقام پر پہنچایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پانی کے دبائو کو کم کرنے کے لیے کچھ علاقوں میں بند توڑنے پڑے جس سے مزید نقصان کو روکا گیا۔ اس کے ساتھ ہی پنجاب حکومت کو راشن پیکج سمیت 9 ہزار ٹینٹ فراہم کیے گئے ہیں اور مجموعی طور پر 9 ہزار ٹن سے زیادہ راشن بھی پہنچایا گیا ہے۔

چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ امدادی سرگرمیوں میں مصروف فلاحی اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور یہ کہ آئندہ پیشگی انتظامات کے لیے تمام ادارے مل کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ 16 سے 18 ستمبر کے دوران وسطی پنجاب اور آزاد کشمیر میں مزید بارش کا امکان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں، کیونکہ بڑھتے درجہ حرارت کے باعث گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جو مستقبل میں مزید خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

مزید خبریں