اسلام آباد۔21جنوری (اے پی پی):قومی اسمبلی کو بتایاگیاہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد پولٹری کاشعبہ، فوڈ سیفٹی کے نفاذ اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں پرقابوپانا مکمل طور پر صوبوں کے دائرہ اختیار میں آتا ہے،وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت برآمدات پر مبنی معیشت کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔بدھ کوقومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر …
18ویں آئینی ترمیم کے بعد پولٹری کاشعبہ، فوڈ سیفٹی کا نفاذ اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں پرقابوپانا صوبوں کے دائرہ اختیار میں ہے، راناتنویرحسین

مزید خبریں
اسلام آباد۔21جنوری (اے پی پی):قومی اسمبلی کو بتایاگیاہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد پولٹری کاشعبہ، فوڈ سیفٹی کے نفاذ اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں پرقابوپانا مکمل طور پر صوبوں کے دائرہ اختیار میں آتا ہے،وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت برآمدات پر مبنی معیشت کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔بدھ کوقومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے ایوان کوبتایاکہ فوڈ سیفٹی اور معائنہ کا نظام صوبائی فوڈ اتھارٹیز کی ذمہ داری ہے، جو تمام صوبوں میں قائم کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب اس حوالے سے پہلا صوبہ تھا جہاں فوڈ سیفٹی اتھارٹی قائم کی گئی، جو اب باقاعدگی سے ریسٹورنٹس، گوشت کی دکانوں اور دیگر فوڈ آوٹ لیٹس کا معائنہ کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان گوشت کی برآمدات بڑھانے کے لیے مویشیوں کی صحت سے متعلق مسائل، خصوصاً منہ کھر پر قابو پانے کے لیے کام کر رہا ہے،پنجاب میں 15 ایف ایم ڈی فری زونز قائم کیے جا چکے ہیں، جو آئندہ تین برس میں مکمل طور پر بین الاقوامی معیار پر پورا اتریں گے، جس سے عالمی منڈیوں تک رسائی میں بہتری آئے گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ وفاقی حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 7.3 ارب روپے کا منصوبہ منظور کیا گیا ہے، جس کا مقصد مویشیوں کی بیماریوں، بشمول ایف ایم ڈی اور پولٹری سے متعلق امراض، کی نگرانی، تشخیص اور علاج کو مضبوط بنانا ہے، اس منصوبے سے برآمدات میں اضافہ اور مقامی سطح پر گوشت کی فراہمی بہتر ہوگی، کیونکہ ملک میں تقریباً 45 فیصد گوشت مقامی طور پر استعمال ہوتا ہے۔
پولٹری گوشت کی قیمتوں سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ قیمتوں کا تعین صوبائی معاملہ ہے اور وفاقی حکومت اس میں مداخلت نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں کے پاس اپنی اپنی پرائس کنٹرول اور نفاذ کا نظام موجود ہے۔ اراکینِ اسمبلی کو مشورہ دیا کہ وہ قیمتوں سے متعلق مسائل اپنی متعلقہ صوبائی حکومتوں کے سامنے اٹھائیں، افغانستان کے ساتھ سرحد کی بندش سے متعلق ضمنی سوال پر رانا تنویر حسین نے کہا کہ اس سے مجموعی تجارتی سرگرمیوں پر اثر پڑا، تاہم متبادل راستے اور طریقہ کار اختیار کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ کنو اور آلو جیسی فصلوں کو مشکلات کا سامنا تھا، لیکن ایران کے ذریعے متبادل راستے تلاش کیے گئے، جس کے نتیجے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 50 لاکھ ڈالر کی برآمدات ممکن ہوئیں، پولٹری برآمدات متاثر ہونے کی کوئی بڑی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ اگر کسی پولٹری ایکسپورٹر کو نقصان ہوا ہے تو اس نے تاحال وزارت سے رجوع نہیں کیا، جبکہ کنو اور آلو کے برآمد کنندگان کے مسائل حل کیے گئے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت برآمدات پر مبنی معیشت کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ ترسیلاتِ زر تقریباً 40 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، لیکن پائیدار معاشی استحکام صرف برآمدات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت چاول، کنو، مکئی اور دیگر زرعی فصلوں سمیت تمام شعبوں کی برآمدات کی نگرانی کرتی ہے اور کسی بھی کمی یا تاخیر کی صورت میں فوری اقدامات کیے جاتے ہیں۔
چاول کی برآمدات میں حالیہ تاخیر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس نے مسائل حل کرنے کے لیے اقدامات کی منظوری دی ہے۔رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ آئندہ دو ماہ میں ان فیصلوں کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے اور برآمدات گزشتہ سال کے مقابلے میں بڑھنے کی توقع ہے۔








