اسلام آباد ۔ 13 فروری (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے اشیاءخوردونوش میں ملاوٹ کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ملاوٹ کے خلاف ایمرجنسی کا نفاذ کرکے نیشنل ایکشن پلان ایک ہفتے میں مرتب کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ کرنے والے ہماری عوام اور خصوصاً ہمارے بچوں کی صحت اور زندگیوں سے کھیل رہے ہیں جس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا …
وزیراعظم عمران خان کا ملک بھر میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کے جائزے کےلئے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 13 فروری (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے اشیاءخوردونوش میں ملاوٹ کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ملاوٹ کے خلاف ایمرجنسی کا نفاذ کرکے نیشنل ایکشن پلان ایک ہفتے میں مرتب کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ کرنے والے ہماری عوام اور خصوصاً ہمارے بچوں کی صحت اور زندگیوں سے کھیل رہے ہیں جس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی، انہوں نے ہدایت کی کہ ملک میں اشیائے ضروریہ مثلاً گندم، چینی و دیگر فصلوں کی طلب و رسد کے تخمینوں اور طلب و رسد کو یقینی بنانے کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی کی غرض سے قائم کیے جانے والے خصوصی سیل کے قیام کا عمل تیز کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملک بھر میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کے جائزے، پرائس کنٹرول، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور ملاوٹ کی روک تھام کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران کیا جووزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت جمعرات کو منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی مخدوم خسرو بختیار، مشیر تجارت عبدالرزاق داو¿د، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور متعلقہ محکموں اور وزارتوں کے سینئر افسران نے شرکت کی جبکہ وزیرِاعلیٰ پنجاب، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا، صوبہ پنجاب، صوبہ سندھ، صوبہ بلوچستان، صوبہ خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری صاحبان اور دیگر صوبائی سینئر حکام نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ اس موقع پر صوبائی چیف سیکرٹری صاحبان نے وزیرِاعظم کو اپنے متعلقہ صوبوں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کی موجودہ صورتحال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ صوبہ پنجاب، صوبہ خیبر پختونخوا اور وفاقی دارالحکومت میں مجموعی طور پر آٹے، چینی، چاول و مختلف دیگر اشیاءکی قیمتوں میں استحکام رہا ہے اور بعض اشیاءکی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ صوبہ سندھ میں اشیاءکی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق پاسکو کی جانب سے صوبہ سندھ کو چار لاکھ ٹن گندم کی فراہمی تقریباً مکمل ہو چکی ہے جبکہ ایک لاکھ ٹن مزید گندم کی فراہمی کی درخواست پر اقتصادی رابطہ کمیٹی اپنے اجلاس میں غور کرے گی۔ وزیرِ اعظم نے کراچی میں آٹے کی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکرٹری سندھ کوہدایت کی کہ آٹے کی قیمت پر قابو پانے کے حوالے سے فوری اقدامات کو یقینی بنایا جائے اور ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوری کے خلاف انتظامی اقدامات کو موثر بنایا جائے۔ اس موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ ملک میں اشیائے ضروریہ مثلاً گندم، چینی و دیگر فصلوں کی طلب و رسد کے تخمینوں اور طلب و رسد کو یقینی بنانے کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی کی غرض سے قائم کیے جانے والے خصوصی سیل کے قیام کا عمل تیز کیا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ وزارتِ نیشنل فوڈ سیکورٹی کی افرادی قوت کے حوالے سے ضروریات کو پورا کیا جائے۔ اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم کو بڑے شہروں میں اسلام آباد کی طرز پر اشیاءضروریہ کی آن لائن ڈیلیوری، قیمتوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والی موبائل ایپلیکیشن کے اجراءاور کسانوں کی سہولت کے لئے فارم مارکیٹس کے قیام میں پیش رفت پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیرِ اعظم نے تمام صوبائی سیکرٹری صاحبان سے بنیادی اشیائے ضروریہ مثلاً دودھ، گھی، تیل، پینے کے پانی، گوشت، مصالحوں، دالوں اور دیگر اشیاءمیں ملاوٹ کی صورتحال پر بھی تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔ وزیرِ اعظم نے اشیاءخوردونوش میں ملاوٹ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ دودھ، گوشت، دالوں جیسی روزمرہ کی اشیا میں ملاوٹ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملاوٹ کی وجہ سے متعدد بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اور اس سے ہمارے بچوں کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملاوٹ کرنے والے عناصر عوام اور خصوصاً ہمارے بچوں جوکہ ہمارا مستقبل ہیں، کی صحت سے کھیلتے ہیں جس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ملاوٹ شدہ اشیا کے استعمال سے بچوں کی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملاوٹ کے خلاف قومی سطح پر ایمرجنسی کانفاذ کرکے اس کا تدارک کیا جائے۔ اس ضمن میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملک بھر میں خوردو نوش کی اشیا میں ملاوٹ کے خاتمے کے لئے ایک نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا جائے۔ انہوں نے چیف سیکرٹری صاحبان کو ہدایت کی کہ آئندہ ایک ہفتے میں ملاوٹ کے خلاف موثر حکمت عملی اور ٹائم لائنز پر مبنی روڈ میپ ترتیب دیا جائے جسکا آئندہ ہفتے اجلاس میں جائزہ لیا جائے گا۔ وزیرِ اعظم نے صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبرپختونخواہ میں قیمتوں کو قابو میں رکھنے اور ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی روک تھام کے خلاف انتظامی اقدامات کو سراہا۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ صوبہ بلوچستان میں اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ چیک کرنے کے لئے لیبارٹری غیر فعال ہے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ بلوچستان میں فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی فعالی میں وفاقی حکومت کی جانب سے ہر ممکنہ معاونت فراہم کی جائے۔








