جنیوا ۔ 17 دسمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور بھارت میں متنازعہ شہریت بل کی منظوری کا نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا جان لے کہ بھارت میں پناہ گزینوں کا ایک بڑا بحران جنم لے رہا ہے، 5 اگست سے مقبوضہ کشمیر کے 80 لاکھ عوام محصور ہیں، جان بوجھ کر مسلم …
وزیراعظم عمران خان کا پناہ گزینوں سے متعلق عالمی فورم سے خطاب

مزید خبریں
جنیوا ۔ 17 دسمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور بھارت میں متنازعہ شہریت بل کی منظوری کا نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا جان لے کہ بھارت میں پناہ گزینوں کا ایک بڑا بحران جنم لے رہا ہے، 5 اگست سے مقبوضہ کشمیر کے 80 لاکھ عوام محصور ہیں، جان بوجھ کر مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ہمیں خدشہ ہے کہ مسئلہ کشمیر پر توجہ نہ دی گئی تو دو ایٹمی ممالک میں ٹکرائو ہو سکتا ہے، بھارت کو غیر قانونی اقدامات سے باز رکھ کر پناہ گزینوں کے ایک بڑے بحران سے بچا جا سکتا ہے، بھارت نے مسلمانوں کو شہریت سے محروم کرنے کے لئے متنازعہ شہریت بل منظور کیا ہے، 20 کروڑ بھارتی مسلمانوں کے حقوق چھینے جا رہے ہیں، اس قانون کے خلاف بھارت میں فسادات ہو رہے ہیں اور لوگ سڑکوں پر ہیں، پاکستان مشکلات کے باوجود 30 لاکھ افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے، چاہتے ہیں کہ چالیس سال سے مصائب کا شکار افغان عوام امن کے ثمرات سے مستفید ہوں، ایسے حالات پیدا کرنا ہوں گے کہ پناہ گزین باعزت طریقے سے اپنے وطن واپس لوٹ سکیں، بے بس اور بے وسیلہ پناہ گزینوں کے مسائل کا امیر ممالک ادراک نہیں کر سکتے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو پناہ گزینوں سے متعلق عالمی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پناہ گزینوں سے متعلق پہلے عالمی فورم کے انعقاد پر خوشی ہے، پاکستان میں پچھلے چالیس سال سے افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے جن کی مجموعی تعداد 30 لاکھ سے زائد ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسا غریب ملک جہاں پر بے روزگاری ہے اور عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لئے اقدامات کئے جار ہے ہیں وہاں اتنی بڑی تعداد میں پناہ گزین موجود ہیں۔ پاکستان وہ ملک ہے جو اپنے ابتدائی دنوں میں ہی انسانی تاریخ کی سب سے بڑی پناہ گزین تحریک کا حصہ رہ چکا ہے۔ بے بس اور بے وسیلہ پناہ گزینوں کے مسائل کا امیر ممالک ادراک نہیں کر سکتے، ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کو پناہ گزین بننے سے روکا جائے، افغانستان میں امن ہو تاکہ پچھلے چالیس سال سے افغان عوام کو جن مشکلات کا سامنا ہے وہ ختم ہو سکیں








