2025 کے سیزن کے دوران پاکستان کے کپاس کے شعبے میں نمایاں بحالی کے آثار دیکھنے میں آئے ہیں، پاکستان بزنس فورم

اسلام آباد۔3جنوری (اے پی پی):پاکستان بزنس فورم (پی بی ایف) نے کہا ہے کہ 2025 کے سیزن کے دوران پاکستان کے کپاس کے شعبے میں نمایاں بحالی کے آثار دیکھنے میں آئے ہیں، جہاں ملک بھر میں کپاس کی آمد تقریباً 5.43ملین گانٹھوں تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 18 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ یہ بہتری فصل کی بہتر آمد اور مقامی …

اسلام آباد۔3جنوری (اے پی پی):پاکستان بزنس فورم (پی بی ایف) نے کہا ہے کہ 2025 کے سیزن کے دوران پاکستان کے کپاس کے شعبے میں نمایاں بحالی کے آثار دیکھنے میں آئے ہیں، جہاں ملک بھر میں کپاس کی آمد تقریباً 5.43ملین گانٹھوں تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 18 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ یہ بہتری فصل کی بہتر آمد اور مقامی سطح پر مستحکم کھپت کی بدولت ممکن ہوئی۔ہفتہ کو یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق، 31 دسمبر 2025 تک کے مجموعی اعداد و شمار کے تحت کپاس کی آمد تقریباً 5.43 گانٹھیں رہی، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ تعداد تقریباً 4.55ملین گانٹھیں تھی۔

پی بی ایف جنوبی پنجاب کے چیئرمین ملک طلعت سہیل نے کہا کہ یہ بہتری بنیادی طور پر پنجاب کے بڑے کپاس پیدا کرنے والے علاقوں سے زیادہ آمد کی وجہ سے ہوئی، جبکہ سندھ سے سپلائی مجموعی طور پر مستحکم رہی۔ انہوں نے کہا کہ کپاس کی آمد میں اضافے کے باعث جننگ اور پریسنگ کی سرگرمیوں میں بھی تیزی آئی، جبکہ فیکٹریوں میں موجود ذخائر پانچ لاکھ گانٹھوں سے کم رہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ زیادہ تر کپاس مقامی مارکیٹ میں جذب ہو گئی۔ سیزن کے دوران محدود برآمدات ایک محتاط حکمت عملی کا حصہ رہیں تاکہ مقامی ضروریات کو ترجیح دی جا سکے۔مثبت رجحان کے باوجود فورم نے کہا کہ ملکی کپاس کی پیداوار اب بھی قومی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

پاکستان کی ٹیکسٹائل اور اسپننگ صنعت کو مؤثر طریقے سے چلانے کے لیے سالانہ تقریباً 14ملین سے 15ملین گانٹھوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ملک طلعت سہیل نے کہا کہ 2025 میں بہتر کارکردگی کے باوجود مقامی پیداوار اس طلب کا صرف ایک حصہ ہی پورا کر سکی، جس کے باعث کپاس کی درآمد ناگزیر رہی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ساختی خلا پیداواری لاگت اور زرمبادلہ کے ذخائر پر مسلسل دباؤ ڈالتا ہے۔پی بی ایف نے اس فرق کو کم کرنے کے لیے طویل المدتی اور مستقل پالیسی معاونت پر زور دیا اور کہا کہ قلیل المدتی اقدامات کافی نہیں ہوں گے۔ فورم کے مطابق فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ایک اہم ترجیح ہونی چاہیے، کیونکہ پاکستان کی کپاس کی پیداواری صلاحیت اب بھی اپنے ممکنہ معیار سے کم ہے۔

معیاری بیجوں تک بہتر رسائی، مؤثر انسدادِ کیڑہ انتظام اور پانی کے بہتر استعمال سے کاشت کے رقبے میں اضافہ کیے بغیر پیداوار بڑھائی جا سکتی ہے۔پی بی ایف نے کپاس کے کاشتکاروں پر لاگت کے دباؤ میں کمی کی ضرورت بھی اجاگر کی۔فورم نے کہا کہ کپاس کے بیج اور آئل کیک پر عائد موجودہ 18 فیصد سیلز ٹیکس پر نظرثانی سے کسانوں کی معاشی حالت بہتر ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ ضمنی مصنوعات کاشتکاروں کی آمدنی کا اہم ذریعہ ہیں۔ فورم کے مطابق یہ مالی اقدامات مکمل حل تو نہیں تاہم زرعی بہتری کے اقدامات کے ساتھ مل کر کپاس کی کاشت کی حوصلہ افزائی اور 2026 کے سیزن میں زیادہ پیداوار میں مدد دے سکتے ہیں۔

مستقبل کے حوالے سے پی بی ایف نے کہا کہ اگر موجودہ بحالی کا رجحان، جو تقریباً 18 فیصد اضافے سے ظاہر ہوتا ہے، مستحکم قیمتوں، زیادہ پیداواری صلاحیت اور معاون پالیسیوں کے ذریعے مضبوط بنایا جائے تو پاکستان بتدریج درآمدی کپاس پر انحصار کم کر سکتا ہے۔اس سے ٹیکسٹائل ویلیو چین مضبوط، خام مال کی دستیابی مستحکم اور برآمدی مسابقت میں بہتری آئے گی۔ملک طلعت سہیل نے کہا کہ 2025 کے سیزن نے ثابت کر دیا ہے کہ کپاس کی بحالی ممکن ہے۔ اب توجہ اس رفتار کو برقرار رکھنے پر ہونی چاہیے جس کے لیے حقیقت پسندانہ پالیسی معاونت اور پیداواری بنیادوں پر ترقی ضروری ہے تاکہ 2026 میں مزید بہتری یقینی بنائی جا سکے۔

مزید خبریں