2035ء تک پاکستان کو 1 ٹریلین ڈالر کی مضبوط اور خودمختار معیشت میں تبدیل کر نے کا واضح انتخاب موجود ہے، احسن اقبال

اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ روایتی انداز کار اب قابل قبول نہیں رہا، 2035ء تک پاکستان کے پاس ایک واضح انتخاب موجود ہے ، یا تو ہم 600 ارب ڈالر کی معیشت تک محدود رہیں یا ملک کو 1 ٹریلین ڈالر کی مضبوط اور خودمختار معیشت میں تبدیل کر دیں۔ان خیالات کا اظہار …

اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ روایتی انداز کار اب قابل قبول نہیں رہا، 2035ء تک پاکستان کے پاس ایک واضح انتخاب موجود ہے ، یا تو ہم 600 ارب ڈالر کی معیشت تک محدود رہیں یا ملک کو 1 ٹریلین ڈالر کی مضبوط اور خودمختار معیشت میں تبدیل کر دیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پاکستان گورننس فورم 2026 کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی معاشی خودمختاری کا دارومدار برآمدات کے فروغ پر ہے، اگر انفرادی صلاحیتوں کو اجتماعی فضیلت میں ڈھال دیا جائے تو 100 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف حاصل کرنا ممکن ہے، جو قومی مستقبل کو نئی سمت دے سکتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کے فائیو ایز ایجنڈا کے تحت برآمدات کو معیشت کی ’’لائف لائن‘‘ قرار دیا گیا ہے، 2035ء تک حقیقی معاشی خودمختاری اسی وقت ممکن ہے جب پاکستان 100 ارب ڈالر کی برآمدات کی حد عبور کرے، اس مقصد کے لیے مثبت توانائی، مشترکہ وژن اور وفاق، صوبوں اور عوام کے درمیان مضبوط ہم آہنگی ناگزیر ہے۔

انہوں نے انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری کو قومی ترقی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر ہم اپنے لوگوں کو پیچھے چھوڑ دیں تو جدت اور مسابقت کے اس دور میں مستقبل کو کیسے محفوظ بنا سکتے ہیں؟وفاقی وزیر نے کہا کہ 40 فیصد بچوں میں نشوونما کی کمی (سٹنٹنگ) جو ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کے لیے سنگین خطرہ ہے۔تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ سکول سے باہر بچے جو مساوی تعلیمی مواقع کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 10 فیصد جسے پائیدار ترقی کے لیے 16 سے 18 فیصد تک لے جانا ضروری ہے۔سرکاری اداروں کے بڑھتے خسارے اور گردشی قرضے پر قابو پانے کی فوری ضرورت ہے ۔انہوں نے واضح کیا کہ ’’روایتی انداز حکمرانی‘‘ کا دور ختم ہو چکا ہے۔ اب ایسی حکمرانی درکار ہے جو نتائج دے، عوام میں سرمایہ کاری کرے اور پاکستان کو مسابقتی اور جدت پر مبنی عالمی معیشت میں باوقار مقام دلائے۔انہوں نے کہا کہ میرے نزدیک اچھی حکمرانی کا پیمانہ اس کے نتائج ہوتے ہیں۔

کیا یہ میرٹ پر مبنی ہے؟ کیا یہ شفاف ہے؟ کیا یہ واقعی عوام پر مرکوز ہے؟میرا یقین ہے کہ ہم نے پاکستان کو دیوالیہ پن کے دہانے سے نکال کر دنیا کے لیے ایک معاشی مثال بنا دیا ہے۔ ‎#PGF2026 محض ایک فورم نہیں بلکہ عملی مکالمے کا ایک پلیٹ فارم ہے جو اڑان پاکستان کے ایجنڈے کو مزید آگے بڑھانے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔