23.44 ارب روپے کا سکھر بیراج اپ گریڈیشن منصوبہ فروری 2027 میں مکمل ہوگا

23.44 ارب روپے کا سکھر بیراج اپ گریڈیشن منصوبہ فروری 2027 میں مکمل ہوگا

اسلام آباد۔5جولائی (اے پی پی):23.44 ارب روپے مالیت کے سکھر بیراج بحالی اور جدیدکاری منصوبے پر 58 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ منصوبے کی تکمیل فروری 2027 میں متوقع ہے۔ویلتھ پاکستان کودستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق سندھ کے آبپاشی نظام کو مضبوط بنانے اور پاکستان کے اہم ترین آبی ڈھانچوں میں سے ایک کی طویل المدتی استعداد کو بہتر بنانے کے لیے شروع کیے گئے اس منصوبے میں مالی لحاظ سے 49 فیصد پیش رفت بھی حاصل کی جا چکی ہے۔دستاویز کے مطابق سکھر بیراج امپروومنٹ پراجیکٹ (SBIP/S1) پر عملدرآمد چائنا روڈ اینڈ برج کارپوریشن اور ہوبے شوئی زونگ واٹر ریسورسز اینڈ ہائیڈرو پاور کنسٹرکشن کمپنی لمیٹڈ کے مشترکہ منصوبے کے تحت کیا جا رہا ہے۔

ابتدائی طور پر 17.07 ارب روپے مالیت کے اس معاہدے کی لاگت بعد ازاں مختلف تبدیلیوں کی منظوری کے بعد بڑھا کر 23.44 ارب روپے کر دی گئی۔منصوبے کے لیے لیٹر آف ایکسیپٹنس (LOA) 19 اگست 2022 کو جاری کیا گیا جبکہ معاہدے پر 24 اکتوبر 2022 کو دستخط ہوئے۔ تعمیراتی کام کا آغاز 24 فروری 2023 کو کیا گیا۔منصوبے کی مدت 1,460 دن مقرر کی گئی ہے، جس میں 265 روزہ ڈیفیکٹس نوٹیفکیشن پیریڈ (ڈی این پی) شامل نہیں۔رپورٹ کے مطابق منصوبے کے اہم حصوں پر نمایاں پیش رفت جاری ہے۔ دریائی حصے میں بیراج کے 36 گیٹس اور ٹیل چینل کے آٹھ گیٹس پر مختلف مراحل میں کوفر ڈیم کی تعمیر جاری ہے۔

اس کے علاوہ 44 گیٹس اور ان کے ہوسٹس کی مکینیکل اور برقی بحالی کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔سول انجینئرنگ کے تحت بیراج کے 44 بے، بنیادوں اور دیگر متعلقہ ڈھانچوں کی مرمت اور مضبوطی کا کام کیا جا رہا ہے تاکہ بیراج کی آپریشنل حفاظت اور کارکردگی میں اضافہ کیا جا سکے۔ پانی کے بہاؤ کو بہتر بنانے اور تلچھٹ کے مؤثر انتظام کے لیے بائیں اور دائیں جانب کے حصوں، اپروچ چینل اور ٹیل چینل میں ڈریجنگ کا کام بھی جاری ہے۔

اس کے علاوہ منصوبے سے متعلق عمارتوں اور دیگر سہولیات کی تعمیر بھی جاری ہے، جن میں بعض ڈھانچے تکمیل کے قریب ہیں جبکہ چند مخصوص عمارتوں پر محدود کام باقی رہ گیا ہے۔دستاویز کےمطابق سکھر بیراج پاکستان کے آبپاشی نظام کا ایک انتہائی اہم حصہ ہے، جو سندھ میں لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی کو پانی فراہم کرتا ہے۔ جاری بحالی اور جدیدکاری منصوبہ پانی کی تقسیم کے نظام کو مزید مؤثر بنانے، بیراج کے ڈھانچے کو مضبوط کرنے اور آئندہ کئی دہائیوں تک صوبے کے زرعی شعبے کو بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔