اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات ونشریات دانیال چوہدری نے کہا ہےکہ 27 ویں ترمیم ایک دستاویز نہیں،جمہوریت اور مستقبل کا ازسرنو تعین ہے،ایوان بالا کی طرح قومی اسمبلی سے بھی 27 ویں ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور ہوگی۔منگل کو قومی اسمبلی میں سینیٹ سے منظور کردہ صورت میں زیر غور 27 ویں ترمیم کے بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین کی …
27 ویں ترمیم ایک دستاویز نہیں،جمہوریت اور مستقبل کا ازسرنو تعین ہے ، دانیال چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات ونشریات دانیال چوہدری نے کہا ہےکہ 27 ویں ترمیم ایک دستاویز نہیں،جمہوریت اور مستقبل کا ازسرنو تعین ہے،ایوان بالا کی طرح قومی اسمبلی سے بھی 27 ویں ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور ہوگی۔منگل کو قومی اسمبلی میں سینیٹ سے منظور کردہ صورت میں زیر غور 27 ویں ترمیم کے بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین کی دھجیاں اڑانے والے یہاں آئین کی بالادستی کی بات کررہے تھے،27 ویں ترمیم ایک دستاویز نہیں جمہوریت اور مستقبل کا ازسرنو تعین ہے، احتساب کی بات کرنے والی جماعت جس صوبے میں 13 سال سے اقتدار میں ہے وہاں احتساب کا محکمہ بند ہے،امن وامان کی صورتحال یہ ہے کہ ان کا سابق وزیر اعلی اپنے حلقہ میں نہیں جاسکتا۔
ان کے صوبے میں منشیوں کے پاس سے کروڑوں روپے نکلتے ہیں،کوہستان جیسے اربوں روپے کے سکینڈل سامنے آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 243 میں ترمیم سے ہم فوج کو اسی طرح مضبوط کرنا چاہتے ہیں کہ جس طرح معرکہ حق میں انہوں نے دشمن کو جواب دیا اسی طرح آگے بھی جواب دیں۔انہوں نے کہا کہ یہ لوگ ہمیشہ بیساکھیوں کی تلاش میں رہے ہیں،قانون اور آئین کی بالادستی ان کی کبھی ترجیح رہی ہی نہیں ہے،صوبے کے عوام کی فلاح اور امن وامان ان کی ترجیحات میں نہیں رہے۔
انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت کے قیام سے انصاف کی فراہمی میں نمایاں تیزی نظر آئے گی۔جوڈیشل مقدمات کی وجہ سے کورٹ کا زیادہ وقت اسی میں صرف ہوتا تھا اب ایسے مقدمات نمٹانے میں مدد ملے گی۔التواء میں پڑے مقدمات نمٹانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ کسی ایک نے بھی ترمیم کے حوالے سے بات نہیں کی۔یہ تانگا پارٹی تھی جسے پاکستان کے عوام پر مسلط کیاگیا۔انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے تحت اختیارات کی صوبوں کو منتقلی تو شامل تھی لیکن اختیارات اور وسائل لوکل گورنمنٹ کو منتقل کرنے کی شق شامل نہیں تھی،اس ترمیم میں یہ شق بھی ہونی چاہیے تھی۔انہوں نے کہا کہ مشرف کے دور میں ان کو ایک سیٹ ملی تھی،یہ سائیکل پر دفتر جانے کی بات کرتے تھے لیکن ان کا وزیر اعظم ہیلی کاپٹر پر دفتر جاتا تھا، یہ کل بھی روتے رہے اب بھی روتے رہیں گے۔








