ہیلتھ کئیر سسٹم وہ ہوتا ہے جو لوگوں کو بیمار ہونے سے بچائے، حکومت 13 بیماریوں کی ویکیسن مفت لگا رہی ہے، وفاقی وزیر سید مصطفیٰ کمال

اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان 24 کروڑ آبادی کا ملک ہےاور آبادی بڑھنے میں کسی ملک کا پاکستان سے مقابلہ نہیں ، ماہرین کےمطابق 70 فیصدبیماریاں آلودہ پانی سے پھیل رہی ہیں ، حکومت 13 بیماریوں کی ویکیسن مفت لگا رہی ہے، لوگ اپنے بچوں کو ویکسین لگوانے میں بھی حلال و حرام میں پڑ جاتے ہیں۔ان خیالات …

اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان 24 کروڑ آبادی کا ملک ہےاور آبادی بڑھنے میں کسی ملک کا پاکستان سے مقابلہ نہیں ، ماہرین کےمطابق 70 فیصدبیماریاں آلودہ پانی سے پھیل رہی ہیں ، حکومت 13 بیماریوں کی ویکیسن مفت لگا رہی ہے، لوگ اپنے بچوں کو ویکسین لگوانے میں بھی حلال و حرام میں پڑ جاتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے 25 ویں انٹرنیشل پبلک ہیلتھ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کئیر سسٹم وہ ہوتا ہے جو لوگوں کو بیمار ہونے سے بچائے۔انہوں نے کہا کہ جب کوئی بیمار ہوتا ہے تو ڈاکٹر، دوا اور ہسپتال کا کردار اس وقت شروع ہوتا ہے، یہ ہیلتھ کیئرسسٹم نہیں جہاں بیماریاں پھیل رہی ہوں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان 24 کروڑ آبادی کا ملک ہےاور آبادی بڑھنے میں کسی ملک کا پاکستان سے مقابلہ نہیں ، ہم ہر سال نیوزی لینڈ کے برابر آبادی میں اضافہ کر رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ماہرین کے مطابق 70 فیصدبیماریاں آلودہ پانی سے پھیل رہی ہیں، اگرپانی صاف ہو جائے تو ہسپتالوں سے بوجھ کم اور لوگ صحت مند ہونا شروع ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صحت کا نظام یقینی طور پر آئیڈیل نہیں، دنیا کا صحت کا نظام لوگوں کو بیمار ہونے سے بچانے پر منتقل ہو چکا ہے، دنیا انسانوں کو مریض بننے سے بچانے کے نظام پر کاربند ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا طبی نظام زبوں حالی کا شکار ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ہیلتھ کیئر سسٹم نہ ہونے کے باعث ہسپتالوں میں مریضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے، ہیلتھ کیئر ہسپتال کے باہر سے شروع ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صحت کا شعبہ بدترین بحران کی شکل اختیار کر گیا ہے، سرکاری ہسپتالوں میں تو سات سات گھنٹے مریضوں کو انتظار کرنا پڑتا ہے ، وینٹی لیٹر تو نجی ہسپتالوں میں بھی دستیاب نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کیئر نظام جلدی ٹھیک نہیں ہو سکتا،ہر کسی کو اپنا اپنا کردار اد کرنا ہوگا، ہمارا ماحول مریض بنانے کی فیکٹری بن چکا ہے۔مصطفیٰ کمال نے زور دیا کہ ’’پرہیز علاج سے بہتر ہے‘‘ اور ملک میں بیماریوں کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ آلودہ پانی اور ناقص سیوریج سسٹم ہے۔

انہوں نے کہا کہ 70 فیصد بیماریاں گندے پانی سے پیدا ہوتی ہیں اور اگر صاف پانی مہیا ہو جائے تو ہسپتالوں کا بوجھ 70 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان سے کراچی تک آنے والا پانی آلودگی کا سبب بنتا ہے، لہٰذا مقامی سطح پر سیوریج ٹریٹمنٹ سسٹم کا قیام ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان سے کراچی تک سیوریج کا پانی پینے کے پانی میں چلا جاتا ہے، اب سیوریج سسٹم کو ٹھیک کرنا وزارت صحت کی ذمہ داری نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اس دنیا میں اپنی ذمہ داریوں کا حساب دینا ہو گا، اس لئے ہر کسی کو محتاط ہونا پڑے گا ۔انہوں نے کہا کہ حضرت موسیٰ نے بھی اللہ سے صحت مانگی تھی ،انسانی صحت کی اتنی اہمیت ہے ۔

انہوں نے کہا کہ وہیل چیئر سے ایم آر آئی مشین تک ہر چیز ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی میں رجسٹرڈ ہوتی ہے، پہلے یہ فائلوں میں کام ہوتا تھا،اڑھائی سے تین سال وقت درکار ہوتا تھا ، آج اگر کسی کو اپنی میڈیکل ڈیوائس رجسٹرڈ کرانا ہے تو گھر بیٹھے رجسٹریشن ہو جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ ڈریپ نے 15 سو ڈیوائسز رجسٹر کر دی ہیں ، تمام کام 20 روز کے اندر اور ڈیجیٹل طریقے سے ہوا ہے۔وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ 70 فیصد بیماریاں آلودہ پانی سے جنم لیتی ہیں اور پرہیز ہی واحد حل ہے۔ویکسی نیشن، صاف پانی، احتیاط اور لائف اسٹائل میڈیسن کو فروغ دینے سے ہیلتھ کیئر سسٹم کو فروغ دیا جانا وقت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ذیابیطس کے علاج میں جڑی بوٹیوں اور پودوں کے مؤثر استعمال کی افادیت ہے،طبی ماہرین درست کہتے ہیں کہ ’’ذیابیطس تمام بیماریوں کی ماں ہے‘‘ اور پاکستان میں ہر چوتھا شہری اس مرض کا شکار ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جتنے مرضی ہسپتال بنا لیے جائیں، بیماریوں کا مکمل علاج ممکن نہیں جب تک احتیاط، لائف اسٹائل میڈیسن اور صحت عامہ کے بنیادی نظام کو مضبوط نہ کیا جائے۔

انہوں نے نباتاتی ادویات کو اپنے دل کے قریب موضوع قرار دیتے ہوئے کہا کہ قدرت کے نظام کے قریب تر علاج کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔آخر میں وزیر صحت نے کہا کہ قومی صحت کے شعبے میں اصلاحات پر تیزی سے کام جاری ہے اور احتیاطی تدابیر، صاف پانی، بہتر طرزِ زندگی اور جدید تحقیق کے ذریعے ہی بیماریوں کے پھیلاؤ پر قابو پایا جا سکتا ہے۔