نئی دہلی ۔ 19 جون (اے پی پی) عالمی ادارہ صحت نے ڈیجیٹل اور وڈیو گیمز کی لت کو ذہنی امراض کی فہرست میں شامل کرلیا۔ ڈبلیو ایچ او کی طرف سے جاری نئی رپورٹ انٹر نیشنل کلاسیفیکیشن آف ڈیزیز( آئی سی ڈی) میں بتایا گیا ہے کہ” گیمنگ ڈس آرڈر“ میں مبتلا افراد کی دیگر ضروری سرگرمیوں میں دلچسپی ختم ہوجاتی ہے۔ یہ لوگ روزانہ 10 تا 14 گھنٹے …
عالمی ادارہ صحت نے ڈیجیٹل اور وڈیو گیمز کی لت کو ذہنی امراض کی فہرست میں شامل کرلیا

مزید خبریں
نئی دہلی ۔ 19 جون (اے پی پی) عالمی ادارہ صحت نے ڈیجیٹل اور وڈیو گیمز کی لت کو ذہنی امراض کی فہرست میں شامل کرلیا۔ ڈبلیو ایچ او کی طرف سے جاری نئی رپورٹ انٹر نیشنل کلاسیفیکیشن آف ڈیزیز( آئی سی ڈی) میں بتایا گیا ہے کہ” گیمنگ ڈس آرڈر“ میں مبتلا افراد کی دیگر ضروری سرگرمیوں میں دلچسپی ختم ہوجاتی ہے۔ یہ لوگ روزانہ 10 تا 14 گھنٹے گیمز کھیلنے میں گزارتے ہیں۔ رپورٹ کے اجراءکا مقصد اس مرض میں مبتلا افراد کو علاج معالجہ کی ضروری سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اس مرض سے متاثرہ فرد کی نہ صرف خاندانی، سماجی، تعلیمی اور ملازمت سے متعلق سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں بلکہ اس کی نیند اور مجموعی صحت بھی متاثرہ ہوتی ہے۔ ایسے افراد کے اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے تعلقات بھی متاثر ہوتے ہیں اور بچوں اور بڑوں کے درمیان دوریا پیدا ہوجاتی ہیں۔ موبائل اور کمپیوٹر سکرین کے سامنے زیادہ وقت گذارنے کے نتیجہ میں سکرینز سے نکلنے والی تابکاری بھی انسانوںکے لئے نقصان دہ ہے۔








